خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 337 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 337

خطبات مسر در جلد دہم 337 خطبه جمعه فرموده مورخہ یکم جون 2012ء حدیث برلن کے لارڈ میئر یا جو بھی وہاں صوبے کے بڑے میئر ہیں ، گورنر کا ہی درجہ رکھتے ہیں۔اُن کے سامنے کی تو کہنے لگے کہ اگر تم لوگوں کی تعلیم اور تمہارا عمل یہی ہے تو تم بہت جلد دنیا کو اپنے ساتھ ملا لو گے یا دنیا جیت لو گے۔کم و بیش اُن کے الفاظ کا یہی مضمون تھا اور انشاء اللہ تعالیٰ یہ تو ہونا ہے۔بہر حال اگر ہم ترقی کرنے والی قوم ہیں اور یقیناً ہیں تو پھر ہمیں اپنی کمزوریوں پر آنکھیں بند نہیں کر لینی چاہئیں بلکہ نظر رکھنی چاہئے اور اصلاح کی طرف توجہ دینی چاہئے اور پھر یہی نہیں کہ صرف دنیاوی نظر سے ہم نے دیکھنا ہے بلکہ ہم تو اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا ہے جو اس روئے زمین پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے عاشق صادق تھے ، جو ہمیں اللہ تعالیٰ کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے آئے تھے، جو ہمیں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی کی طرف توجہ دلانے آئے تھے۔پس یہ سب چیزیں تقاضا کرتی ہیں کہ ہم نے ہر چیز کو ہر بات کو تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اور تقویٰ کی نظر سے دیکھنا ہے۔اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت اپنے دل میں پیدا کرنی ہے اور اُس عہد بیعت کو نبھانا ہے جو ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر کیا ہے۔پس ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے اپنی تمام تر کمزوریوں کو دور کرنا ہے اور اس کے لئے کوشش کرنی ہے۔صرف انتظامی کمزوریاں نہیں بلکہ ذاتی کمزوریاں بھی (دور کرنی ہیں)۔اور جب اس سوچ کے ساتھ جلسے پر شامل ہونے والا ہر شخص جلسے پر آئے گا، شامل ہوگا، اور ہر مرد اور عورت اپنے خیالات کی ، اپنی سوچوں کی یہ بلندی رکھے گی اور اسی طرح انتظامیہ بھی ان باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے یا یوں کہہ لیں کہ تقویٰ کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے انتظامات کو چلائے گی تو پھر جلسے کی برکات سے شامل ہونے والے بھی اور کارکنان بھی فائدہ اُٹھا ئیں گے اور من حیث المجموع جماعت کا قدم بھی آگے سے آگے بڑھتا چلا جائے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ یادرکھیں کہ جلسہ کے مقاصد بیان فرماتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جہاں عبادتوں تبلیغ ، تقومی اور بہت سے دوسرے مقاصد کی طرف توجہ دلائی ہے، وہاں خاص طور پر بندوں کے حقوق اور اُن میں سے پھر ہمدردی خلق کی طرف خاص طور پر بہت کچھ کہا ہے۔تو دراصل حقیقی رنگ میں ہمدردی خلق کا جذبہ انسان میں پیدا ہو جائے تو حقوق العباد کی ادائیگی خود بخود ہوتی چلی جاتی ہے۔پس اس طرف ہر احمدی کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔