خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 28 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 28

خطبات مسرور جلد دہم 28 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2012 ء جو کچھ ہے اس کے عوارض ہیں۔اصل مرض ، بیماری جو ہے وہ تمہاری بے صبری ہے۔باقی تو اُس کی ذیلی مرضیں ہیں )۔دیکھو انسان اپنے دنیا کے معاملات میں جبکہ بے صبر نہیں ہوتا اور صبر و استقلال سے انجام کا انتظار کرتا ہے پھر خدا کے حضور بے صبری لے کر کیوں جاتا ہے۔کیا ایک زمیندار ایک ہی دن میں کھیت میں بیج ڈال کر اُس کے پھل کاٹنے کی فکر میں ہو جاتا ہے؟ یا ایک بچہ کے پیدا ہوتے ہی کہتا ہے کہ یہ اسی وقت جوان ہوکر میری مدد کرے۔خدا تعالیٰ کے قانونِ قدرت میں اس قسم کی عجلت اور جلد بازی کی نظیر میں اور نمونے نہیں ہیں۔وہ سخت نادان ہے جو اس قسم کی جلد بازی سے کام لینا چاہتا ہے۔اُس شخص کو بھی اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھنا چاہئے جس کو اپنے عیب عیب کی شکل میں نظر آ جاویں۔(وہ شخص بڑا خوش قسمت ہے جس کو اپنے اندر کی برائیاں اور عیب نظر آجائیں ورنہ شیطان بدکاریوں اور بد اعمالیوں کو خوش رنگ اور خوبصورت بنا کر دکھاتا ہے۔( یہ تو بہت بڑی خوبی ہے کہ اگر انسان کو احساس ہو جائے کہ میرے اندر یہ یہ برائیاں ہیں۔کیونکہ شیطان تو اپنا کام کر رہا ہے وہ تو برائیوں کو بھی اچھا کر کے دکھاتا ہے)۔فرمایا کہ پس تم اپنی بے صبری کو چھوڑ کر صبر اور استقلال کے ساتھ خدا تعالیٰ سے توفیق چاہو اور اپنے گناہوں کی معافی مانگو۔بغیر اس کے کچھ نہیں ہے۔جو شخص اہل اللہ کے پاس اس غرض سے آتا ہے کہ وہ پھونک مارکر اصلاح کر دیں، وہ خدا پر حکومت کرنی چاہتا ہے۔یہاں تو محکوم ہو کر آنا چاہئے۔ساری حکومتوں کو جب تک چھوڑتا نہیں، کچھ بھی نہیں بنتا۔جب بیمار طبیب کے پاس جاتا ہے تو وہ اپنی بہت سی شکایتیں بیان کرتا ہے۔( ڈاکٹر کے پاس انسان جاتا ہے تو اپنے مرض بیان کرتا ہے )۔مگر طبیب شناخت اور تشخیص کے بعد معلوم کر لیتا ہے کہ اصل میں فلاں مرض ہے۔وہ اس کا علاج شروع کر دیتا ہے۔اسی طرح سے تمہاری بیماری بے صبری کی ہے۔اگر تم اس کا علاج کرو تو دوسری بیماریاں بھی خدا چاہے تو رفع ہو جائیں گی۔ہمارا تو یہ مذہب ہے کہ انسان خدا تعالیٰ سے کبھی مایوس نہ ہو اور اُس وقت تک طلب میں لگا رہے جب تک کہ غرغرہ شروع ہو جاوے۔“ ( آخری سانس تک لگا ر ہے۔”جب تک اپنی طلب اور صبر کو اس حد تک نہیں پہنچا تا، انسان با مراد نہیں ہوسکتا۔“ ( پس یہ مقام ہے صبر کا کہ آخری سانس تک انسان کوشش کرتا رہے۔) فرمایا کہ اور یوں خدا تعالیٰ قادر ہے۔وہ چاہے تو ایک دم میں بامراد کر دے۔( یہ ضروری بھی نہیں کہ آخری سانس تک ہو۔اللہ تعالیٰ قادر ہے وہ ایک دم پہلی دفعہ، ایک دعا سے ہی ،ایک سجدے سے ہی دعا قبول کر لیتا ہے۔مگر عشق صادق کا یہ تقاضا ہونا چاہئے کہ وہ راہ طلب میں پویاں رہے۔“ (یعنی مستقل مزاجی سے دوڑ تار ہے، چلتا رہے۔) سعدی نے کہا ہے۔“ ( ایک فارسی شعر ) :