خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 326
خطبات مسرور جلد دہم 326 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012 ء کرے کہ شام کو ہمارے گھر کھانا کھالو تو وہ تر دنہیں کرتا۔مجھے خدا تعالیٰ کے وعدے پر یقین ہونا چاہیئے۔وہ ضرور یہاں ایندھن پہنچا دے گا۔اس پر میں مطمئن ہو کر مسجد کی چھت پر ہی بیٹھ رہا۔ظہر کا وقت قریب ہوا، نیچے اُترتے ہی خادمہ نے جس کے سامنے مجھے حضور نے روپیہ دیا تھا، دیکھ لیا اور کہنے لگی کہ تو ابھی تک ”بالن ( یعنی ایندھن ) لینے نہیں گیا۔میں نے جی میں سوچا کہ یہ حضور کے پاس ہے، اُسے پتہ ہوگا کہ حضور کو الہامات ہوتے ہیں اور پورے بھی ہو جاتے ہیں، اُسے کہا کہ فکر کی بات نہیں، مجھے خدا تعالیٰ نے الہام کیا ہے کہ بالن ( یعنی ایندھن ) یہیں پہنچ جائے گا۔اس پر وہ برہم ہو کر کہنے لگی کہ تو یہ کہتا ہے کہ جب تک مجھے الہام نہ ہوگا میں کہیں نہیں جاؤں گا ؟ دیکھو ئیں ابھی جا کے حضرت صاحب سے کہتی ہوں۔( اس بات کو اُس نے اور رنگ میں لے لیا۔انہوں نے کہا تھا کہ وہاں پہنچ جائے گا۔اُس نے کہا کہ نہیں جب تک الہام نہیں ہو گا نہیں جاؤں گا)۔خیر باوجود میرے روکنے کے اُس نے جاکے حضور کو سنا دیا کہ وہ کہتا ہے کہ جب تک مجھے الہام نہ ہوگا میں کہیں نہیں جاؤں گا۔مجھے یہ فکر ہوئی کہ حضور اب ضرور مجھ سے بلا کر دریافت کریں گے تو مجھے اپنے الہام کا ذکر کرنا پڑے گا۔ایک فقیر عاجز، بادشاہ کے سامنے کہاں کہہ سکتا ہے کہ میں بھی مالدار ہوں ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو الہام ہوتے ہیں، میں کس طرح کہہ سکتا ہوں کہ مجھے الہام ہوا ہے ) اس لئے میں مسجد کی سیڑھیوں سے اتر کر بٹالے والے دروازے کی طرف بھاگا اور پیچھے مُڑ کر دیکھا کہ کوئی مجھے بلانے والا تو نہیں آیا۔بٹالے والے دروازے پر پہنچ کر میں نے قصد کیا کہ سیکھواں جا کر ایندھن کی تلاش کروں اور مولوی امام الدین اور خیر الدین صاحبان سے امداد لے کر یہ کام کروں۔تھوڑی دور چل کر مجھے پھر خیال پیدا ہوا کہ خدا تعالیٰ کا تو حکم ہے کہ یہاں آجائے گا، مگر میں تو اگر باہر چلا گیا تو روپیہ بھی میرے پاس ہے تو یہ کام کس طرح ہو گا ؟ اس لئے میں واپس آکر مسجد کی چھت پر پھر بیٹھ گیا اور دعا کرتا رہا کہ خدا تعالیٰ اپنا وعدہ پورا کرے۔پیراں دینہ ایک ملازم حضرت اقدس کا جو پہاڑ یہ کہلاتا تھا مجھے دیکھ کر آواز دینے لگا کہ بالن کے ( یعنی ایندھن کے ) گڈے پہاڑی دروازے پر آئے ہیں، چل کر خرید لو۔میں نے سجدہ شکر ادا کیا اور اُس کے ساتھ جا کر دیکھا تو ایک گڈا اوپلوں کا تھا، باقی لکڑی تھی اور اس گڑے کے لئے بارہ شخص گا ہک موجود تھے۔اور وہ ایک دوسرے سے دو دو آنے بڑھ کر بولی دے رہے تھے اور ایک روپیہ بارہ آنے تک بولی ہو چکی تھی۔میاں نجم الدین صاحب نے دو آنے بڑھا کر لینا چاہا، میں نے ایک آواز دی کہ میں دیکھ لوں کہ اس میں کتنا ایندھن ہے اور گڈے کے گرد پھر کر کہا کہ ایک روپیہ بارہ آنے سے زیادہ اس میں ایک پیسے کا ایندھن نہیں ہے ( یا لکڑی او پلے نہیں ہیں ) جس کی مرضی ہو وہ