خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 325
خطبات مسرور جلد دہم 325 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012 ء صبح اجازت دی۔یہاں سے گیارہ بجے گاڑی پر سوار ہو کر تین بجے لاہور پہنچے اور سید ھے ٹم ٹم میں بیٹھ کر ساڑھے تین بجے دفتر پہنچے۔کرسی پر بیٹھے ہی تھے۔(اب یہاں دیکھیں کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے حکم اور اطاعت کی وجہ سے رُکے تھے، اللہ تعالیٰ نے کس طرح یہ سلوک کیا اور عجیب معجزانہ واقعہ ہوا ہے ) گرسی پر بیٹھے ہی تھے کہ دفتر کا کوئی کلرک آیا اور کہنے لگا کہ بارہ بجے آپ کو کاغذ دیئے تھے ، وہ کام آپ نے کیا ہے یا نہیں۔(حالانکہ یہ پہنچے ہی تین بجے تھے ) پھر ایک افسر آیا۔اُس نے کہا چراغ دین! گیارہ بجے جو آپ نے چٹھی دی تھی یہ اُس کا جواب ہے۔( یعنی اس افسر کے پاس ایسا انتظام اللہ تعالیٰ نے کیا، کوئی بھی چٹھی لے کر گیا تھا وہ سمجھے کہ چراغ دین لے کے آئے ، یا بہر حال اللہ تعالیٰ کے فرشتوں نے کام کیا۔فرمانے لگے کہ دفتر کا ہر شخص یہی سمجھتا تھا کہ میں دفتر میں ہی ہوں ، چنانچہ چار بجے شام میں دفتر سے گھر چلا گیا۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 234۔روایات میاں عبدالعزیز صاحب آف لاہور ) سی بھی اطاعت اور فرمانبرداری اور پھر صحابہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا جو سلوک تھا، اُس کی ایک مثال ہے۔حضرت میر مهدی حسین صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضور نے مجھے بلایا اور حکم دیا کہ ہمارے لنگر میں ایندھن نہیں ہے۔تم دیہات سے اوپہلے خرید کر لاؤ اور آج شام تک پہنچ جائیں۔کیونکہ کل کے لئے لنگر خانے میں ایندھن نہیں ہے۔اور چار روپے مجھے خریدنے کے لئے دیئے۔میں وہ روپیہ لے کر سیدھا مسجد مبارک کی چھت پر چڑھ گیا اور موجودہ منار جو علیحدہ مسجد سے کھڑا ہے اُس کے قریب کھڑے ہو کر دعا کی کہ الہی! تیرے مسیح نے مجھے ایک کام کے لئے فرمایا ہے اور میں اس سے بالکل ناواقف ہوں۔مجھے ایسی سمت بتلائی جائے جہاں سے میں شام تک اوپہلے لے کر یہاں پہنچ جاؤں۔مجھے منارے کے تھوڑی بلندی کے اوپر سے ایک آواز آئی ، آواز سنائی دی کہ ریگستان ہے۔میں نے سمجھا کہ میرے پاؤں میں زخم کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مجھے جانے سے روکا ہے۔میں نے دوبارہ عرض کی کہ حضور ! ( یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کی کہ ) میں لنگڑا ہی چلا جاؤں گا لیکن تیرے مسیح کا حکم شام تک پورا ہو جائے۔دوبارہ جواب آیا کہ یہیں آ جائے گا، کہیں جانے کی ضرورت نہیں۔میں نے سجدہ شکر ادا کیا اور کہا کہ اسی طرح مسیح کے کام ہوں گے تو دنیا فتح ہو سکے گی۔میں اسی جگہ بیٹھ گیا اور دعا کرتا رہا کہ الہی ! ایسا نہ ہو کہ مجھے شام کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے شرمندہ ہونا پڑے۔پھر دل میں خیال آیا کہ میں نبی نہیں ہوں، کوئی ولی نہیں ہوں جس کے الہامات ایسے جلدی سچے نکلیں۔مجھے کہیں جانا چاہئے۔لیکن پھر خیال آیا کہ اگر کوئی شخص کسی کی دعوت