خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 324
خطبات مسرور جلد دہم 324 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012 ء کرتے تھے۔حضرت صاحب وقتاً فوقتاً خاکسار سے پوچھا بھی کرتے تھے کہ سیٹھ صاحب کو کوئی تکلیف تو نہیں؟ ایک دفعہ حضرت صاحب نے مسجد میں مسکرا کر سیٹھ صاحب سے دریافت کیا کہ سیٹھ صاحب! آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ حضور! کوئی تکلیف نہیں۔میاں غلام حسین تو پانی بھی مسجد سے لا کر دیا کرتے ہیں۔حضرت صاحب سیٹھ صاحب کو رخصت کرنے کے لئے دارالصحت تک تشریف لے جایا کرتے تھے اور جب حضرت صاحب واپس لوٹتے تو مجھے، پیراں دتہ اور کر مداد کو بلا کر دو دو روپے ان دونوں کو اور مجھے پانچ روپیہ دیا کرتے تھے۔( رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 89-90۔بقیہ روایات ملک غلام حسین صاحب مہاجر ) خدمت اور اکرام ضیف مہمان کی خدمت جو ہے یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کی تعمیل میں تو سب کرتے ہی تھے۔ایک تو ویسے بھی حکم ہے کہ مہمان کی مہمان داری کرنی چاہیئے لیکن یہاں خدمت کا ثواب کمانے کے لئے اور دوسرے محبت اور اطاعت کا اظہار کرنے کے لئے ایک اور فرض بھی بن گیا تھا۔حضرت مولوی عزیز دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مفتی محمد صادق صاحب نے جو اُس وقت لاہور میں ملازم تھے، صبح کے وقت جانے کی اجازت مانگی۔حضرت صاحب نے فرمایا : آپ نہ جائیں، آج یہیں رہیں۔پھر مفتی صاحب نے دو پہر کے وقت عرض کی کہ حضور! نوکری کا کام ہے۔آج پہنچنا ضروری تھا۔اب تو وقت بھی گزر گیا ہے۔حضرت صاحب نے فرمایا: وقت کی کوئی فکر نہ کریں، آپ ابھی چلے جائیں انشاء اللہ ضرور پہنچ جائیں گے۔مفتی صاحب بٹالہ کی طرف روانہ ہو گئے اور میں بھی ان کے ساتھ بٹالہ چلا۔وقت چار بجے کا ہو گیا۔ان ایام میں بٹالہ سے لاہور کو دو بجے گاڑی جایا کرتی تھی۔مایوس تو سبھی تھے مگر جب اسٹیشن پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ گاڑی دو گھنٹے لیٹ ہے۔چنانچہ وہ گاڑی آئی اور ہم سوار ہو کر لاہور کی طرف روانہ ہو گئے۔یہ جلسہ کے ایام کی بات نہیں، بلکہ کوئی اور وقت تھا۔( رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 215-216۔روایات مولوی عزیز دین صاحب) حضرت میاں عبد العزیز صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میاں چراغ دین صاحب فرمایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ اتوار کے دن میں نے حضرت صاحب سے اجازت مانگی کہ حضور! مجھے دفتر حاضر ہونا ہے۔حضرت صاحب اکثر اجازت دے دیا کرتے تھے مگر اُس دن اجازت نہ دی۔پیر کے دن