خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 27
خطبات مسرور جلد دہم 27 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 جنوری 2012ء درجے کے مطابق ، اُس کی استطاعت کے مطابق نوازتا ہے۔اس علمی اور روحانی باتوں کی جو بحث تھی اس کے ساتھ اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجالس کی کچھ باتیں بیان کرتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مجالس میں لوگ سوال کرتے تھے، ایک ایسی مجلس میں آپ نے استغفار کی اہمیت آپ نے کس طرح واضح فرمائی ، اس بارے میں ایک روایت آتی ہے کہ ایک شخص نے پوچھا کہ میں کیا وظیفہ پڑھا کروں؟۔اُس زمانے میں بھی رواج تھا، لوگوں کو وظیفہ پڑھنے کا بڑا شوق تھا۔اب بھی ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ: استغفار بہت پڑھا کرو۔انسان کی دو ہی حالتیں ہیں یا تو وہ گناہ نہ کرے یا اللہ تعالیٰ اس گناہ کے بدانجام سے بچالے۔“ ( دو انسان کی حالتیں ہیں یا گناہ نہ کرو اور اگر گناہ ہو گیا ہے اور غلطی کا احساس ہو گیا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس گناہ کے بد انجام سے انسان کو بچائے )۔فرمایا کہ سواستغفار پڑھنے کے وقت دونوں معنوں کا لحاظ رکھنا چاہئے۔( جب استغفار پڑھ رہے ہو تو دونوں معنوں کا لحاظ رکھو۔یہ بہت بڑا وظیفہ ہے کہ ایک تو انسان گناہ نہ کرے، گناہ سے بچنے کی دعا مانگے اور پھر یہ کہ اگر ہو گیا ہے تو اُس کا بدانجام ظاہر نہ ہو۔فرمایا ) ” ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ سے گزشتہ گناہوں کی پردہ پوشی چاہئے۔اور دوسرا یہ کہ خدا سے توفیق چاہے کہ آئندہ گناہوں سے بچائے۔مگر استغفار صرف زبان سے پورا نہیں ہوتا بلکہ دل سے چاہئے۔نماز میں اپنی زبان میں بھی دعامانگو یہ ضروری ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 525 مطبوعدر بوه ) پس یہ ہے استغفار کا مقصد کہ گناہ کی معافی اور گناہ سے بچنا۔اور گناہوں کی تفصیل جاننے کے لئے قرآن کریم کے احکامات پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔پھر ایک مجلس میں ایک شخص آیا۔مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اس مجلس میں بیٹھے تھے، اُن کا واقف تھا۔جب اُن کو آ کے ملا، تو انہوں نے اُس کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے پیش کیا کہ یہ شخص کئی پیروں فقیروں اور گدیوں میں پھرا ہے، بڑے مشائخ کے پاس سے ہو کے آیا ہے۔اب یہ یہاں آیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُس سے فرمایا کہ کیا کہتے ہو؟ بتاؤ۔تو کہنے لگا: ” حضور! میں بہت سے پیروں کے پاس گیا ہوں۔مجھ میں بعض عیب ہیں۔اول میں جس بزرگ کے پاس جاتا ہوں تھوڑے دن رہ کر پھر چلا آتا ہوں اور طبیعت اُس سے بد اعتقاد ہو جاتی ہے۔دوم مجھ میں غیبت کرنے کا عیب ہے۔سوم عبادت میں دل نہیں لگتا۔اور بھی بہت سے عیب ہیں۔“ حضرت اقدس ( نے فرمایا کہ : میں نے سمجھ لیا ہے۔اصل مرض تمہارا بے صبری کا ہے۔باقی