خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 282 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 282

خطبات مسرور جلد دہم 282 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 مئی 2012ء کے پاس حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے ہیں اور مجھے بھی زینے سے کسی آدمی کے چڑھنے کی آواز آئی۔چنانچہ میں رویا ہی میں دوزانو بیٹھ گیا۔اتنے میں میں نے دیکھا کہ ایک نہایت تبرک سفید لباس میں انسان آیا ہے اور انہوں نے ایک بازو سے حضرت مرزا صاحب کو پکڑ کر میرے سامنے کھڑا کر دیا اور فرمایا: وو 66 هَذَا الرَّجُلُ خَلِيفَةُ اللَّهِ وَاسْمَعُوا وَاَطِيْعُوا “۔پھر وہ واپس تشریف لے گئے اور حضرت صاحب میرے پاس کھڑے ہو گئے اور اپنی ایک انگلی اپنی چھاتی پر مار کر کہا۔(انہوں نے خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا کہ انہوں نے پنجابی میں کہا '' ایہورب خلیفہ کیتا ایس نوں مہدی جانو“۔پھر ایک اور نظم کی رباعی بھی پڑھی لیکن میں بھول گیا ہوں۔اس کا مطلب بھی یہی تھا کہ میں مسیح موعود ہوں۔میں پھر بیدار ہو گیا۔صبح میں بجائے سکول جانے کے قادیان روانہ ہو گیا۔گاڑی بٹالہ تک تھی اور قریباً شام کے وقت وہاں پہنچتی تھی۔میں بٹالہ کی مسجد میں جواڑہ کے سامنے چھوٹی سی ہے نماز پڑھنے کے لئے گیا۔مغرب کی نماز پڑھ رہا تھا کہ لوگوں نے پوچھا کہ آپ کہاں سے آئے ہیں اور کہاں کا ارادہ ہے؟ میں نے کہا لاہور سے آیا ہوں اور قادیان جانے کا ارادہ ہے۔انہوں نے حضرت صاحب کو بہت گالیاں دیں اور مجھے وہاں جانے سے روکا۔جب میں نے اپنا مصمم ارادہ ہی ظاہر کیا تو انہوں نے مجھے مسجد سے نکال دیا۔میں اڈہ میں آ گیا مگر کچھ لوگ اڈے پر بھی میرے پیچھے آئے اور مجھے ہر چند قادیان جانے سے روکا۔(بہت کوشش کی اور کہا کہ اگر تم طالب علم ہو تو ہم تمہیں یہاں بڑے میاں کے پاس بٹھا دیں گے اور تمہاری رہائش اور لباس کا بھی انتظام کر دیں گے۔مگر میں نے عرض کیا کہ میں پہلے ہی لاہور میں پڑھتا ہوں۔(اس کی مجھے ضرورت نہیں ہے۔) اس لئے مجھے یہاں پڑھنے کی ضرورت نہیں۔میں قادیان میں حضرت صاحب کی زیارت کے لئے جا رہا ہوں۔اس پر انہوں نے زیادہ مخالفت شروع کی مگر میں نے پرواہ نہ کی اور قادیان کی طرف شام کے بعد ہی چل پڑا۔اندھیرا بہت تھا۔رات کا کافی حصہ گزر چکا تھا اور راستہ پہلے دیکھا ہوا نہیں تھا۔میں غلطی سے چراغ کو دیکھ کر جو دور جل رہا تھا مسانیاں چلا گیا۔( قادیان کی طرف ہی ایک اور جگہ تھی ) وہاں نماز عشاء ہو چکی ہوئی تھی۔ایک آدمی مسجد میں بیٹھا ذکر الہی کر رہا تھا۔اس نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کہاں جائیں گے اور کہاں سے آئے ہیں؟ میں نے کہا لاہور سے آیا ہوں اور حضرت مرزا صاحب کو ملنا چاہتا ہوں۔اس نے جواباً کہا کہ یہ تو مسانیاں ہے۔قادیان نہیں۔قادیان یہاں سے دور ہے اور تم یہاں سو جاؤ۔صبح کے وقت جانا ( کیونکہ ) راستہ مخدوش ہے۔چنانچہ میں وہاں مسجد میں۔