خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 281
خطبات مسر در جلد دہم 281 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 مئی 2012 ء ڈیوٹی لگائی کہ تم نو جوان ہو۔اسی وقت جاؤ اور جماعت کر یام کو اطلاع کرو۔چنانچہ میں مغرب کے بعد چل کر کر یام پہنچا۔جماعت کو اطلاع کی گئی۔وہاں سے بھی کچھ دوست ساتھ ہو لئے۔ہم سب لوگ اسی طرح چل کر پھگواڑہ جو کہ راہوں سے تیس میل کے فاصلے پر تھا وہاں پہنچے، صبح کی نماز پڑھی۔وہاں سٹیشن پر منشی حبیب الرحمن صاحب مرحوم نے حاجی پور والوں کی طرف سے احباب جماعت کے ٹھہرنے کا انتظام کیا ہوا تھا اور دن کے وقت اُنہی کی طرف سے کھانا آیا۔جب گاڑی کا وقت آیا اور گاڑی آکر گزرگئی تو معلوم ہوا کہ روانگی کی تاریخ تبدیل ہو گئی ہے۔جو اطلاع تھی اُس کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف نہیں لائے بلکہ تاریخ بدل گئی ہے۔کسی اور دن آئیں گے جس سے ہم کو بہت صدمہ ہوا۔لکھتے ہیں، یا تو راتوں رات وفور محبت کی وجہ سے اتنا لمبا سفر کیا تھا یا یہ حالت ہوئی کہ ایک قدم چلنا بھی دشوار ہو گیا۔ملنے کا ، دیکھنے کا یہ شوق تھا، اس وجہ سے ہم نے راتوں رات کئی میل کا سفر کیا۔لیکن اب جب دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف نہیں لا رہے تو پھر پیروں پر جو چھالے پڑے ہوئے تھے وہ بھی یاد آنے لگ گئے۔صدمہ بھی ہوا اور پھر کہتے ہیں اس صدمے کی وجہ سے واپسی پر ہم پھر یکوں پر، ٹانگوں پر ) واپس چلے گئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 3 صفحہ نمبر 227-228 روایت حضرت ملک نیاز محمد صاحب معرفت ملک برکت اللہ صاحب) حضرت منشی قاضی محبوب عالم صاحب بیان کرتے ہیں۔یہ ان کا احمدیت قبول کرنے سے پہلے کا واقعہ ہے۔کہتے ہیں کہ میں جب طالب علم تھا، آٹھویں جماعت میں تو حنفی اور وہابی لوگوں کی یہاں لاہور میں بہت بحث ہوا کرتی تھی۔میں حفی المذہب تھا۔مجھے شوق پیدا ہوا کہ وہابیوں کی مجلس میں بھی جاؤں۔چنانچہ میں نے چینیاں والی مسجد میں جانا شروع کیا۔جب میں اُن کی مسجد میں بیٹھا تو مجھے معلوم ہوا کہ وہ قال اللہ اور قال الرسول کے سوا کچھ نہیں کہتے۔میری طبیعت کا رجحان پھر اہلحدیث کی طرف ہو گیا۔بعض وقت وہابیوں کی مجلس میں حضرت صاحب کا بھی ذکر آجایا کرتا تھا کہ وہ کافر ہیں اور ان کا دعویٰ مسیحیت اسلام کے خلاف ہے۔طبعاً مجھے پھر اس طرف توجہ ہوئی۔چنانچہ ایک شخص حضرت ولی اللہ صاحب ولد بابا ہدایت اللہ کو چہ چابک سواراں احمدی تھے میں اُن کی خدمت میں جانے لگا اور ان سے حضرت صاحب کے متعلق کچھ معلومات حاصل کیں۔انہوں نے مجھے استخارہ کرنے کے واسطے توجہ دلائی۔چنانچہ اُن سے میں نے طریق استخارہ سیکھ کر اور دعائے استخارہ یاد کر کے استخارہ کیا۔رات کے دو بجے دوسرے روز میں ابھی استخارہ کی دعا پڑھ کر سویا ہی تھا کہ رویا میں مجھے کسی شخص نے کہا کہ آپ اُٹھ کر دوزانو بیٹھیں کیونکہ آپ