خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 280
خطبات مسرور جلد دہم 280 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 مئی 2012ء اٹھتی موجود ہے میں اپنے خرچ پر قادیان جاؤں گا۔( یعنی انہوں نے اُن کو مفت آفر کی تھی کہ آجائیں۔جگہ ہے۔آپ ہمارے ساتھ بیٹھ جائیں تو انہوں نے کہا نہیں اس طرح نہیں۔میرے پاس کرائے کے پیسے ہیں۔میں پیسے دے کر جاؤں گا۔) اس سے منجملہ وقار اور غیرت اور سوال سے نفرت کے یہ بھی پتہ لگتا ہے کہ لوگ باوجود اس غربت کے اپنی زندگی 66 اسی میں پاتے تھے کہ بار بار قادیان آئیں۔“ (رجسٹر روایات صحابہ ( غیر مطبوعہ ) رجسٹر نمبر 2 صفحہ نمبر 109 - 110 روایت حضرت ڈاکٹر عبداللہ صاحب) یعنی ایک تو نابینا شخص کی غیرت تھی ، کوئی سوال نہیں، یعنی سوال سے نفرت ہے۔دوسرے یہ کہ کوشش کر کے پیسے جمع کرتے تھے اور پھر بار بار قادیان آنے کی کوشش کرتے تھے تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صحبت سے فائدہ اُٹھا سکیں۔حضرت میاں چراغ دین صاحب بیان کرتے ہیں کہ حکیم احمد دین صاحب جب حضور کی ملاقات کے لئے لاہور جانے لگے تو میں نے انہیں محول کیا ( یعنی مذاق میں کہا ) حکیم صاحب نے کہا کہ یا را تم اپنے آدمی ہو کر محول کرتے ہو۔یہ بات سُن کر مجھے کچھ شرم سی محسوس ہوئی اور میرا دل نرم ہو گیا۔ان کے کہنے پر میں بھی حضور کو دیکھنے کے لئے ساتھ چل پڑا۔( اُس وقت یہ احمدی نہیں تھے، انہوں نے مذاق کیا، حکیم صاحب کو کہ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھنے جارہے ہیں۔کوئی ایسی بات کی ہو گی۔خیر انہوں نے اُن کو کچھ احساس دلایا تو ان کو شرم آئی۔کہتے ہیں بہر حال میں بھی پھر ساتھ چل پڑا) مگر بیعت کا ہرگز کوئی ارادہ نہیں تھا ( ساتھ تو چلا گیا لیکن بیعت کا ارادہ نہیں تھا ) جب خواجہ کمال الدین صاحب کے مکان پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ حضرت صاحب کی طبیعت علیل ہے۔مخلوق بے شمار جمع تھی۔حضور کی خدمت میں کسی نے عرض کیا کہ ہجوم بہت زیادہ ہے حضور کی زیارت کرنا چاہتے ہیں۔حضور نے باری سے ( یعنی کھڑکی سے سر نکالا۔میں نے اندازہ لگایا کہ یہ چہرہ ہرگز جھوٹوں کا نہیں ہوسکتا۔چنانچہ میں نے بیعت کر لی۔“ (رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 9 صفحہ نمبر 336 روایت حضرت میاں چراغ دین صاحب) ملک برکت اللہ صاحب پسر حضرت ملک نیاز محمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1905 ء میں ایک دن بوقت عصر ہم کو راہوں، ضلع جالندھر میں ( یعنی جس جگہ یہ رہتے تھے ، راہوں ضلع جالندھر میں ) وہاں ایک خط ، پوسٹ کارڈ ملا کہ حضور علیہ السلام دہلی تشریف لے جارہے ہیں اور صبح آٹھ یا نو بجے گاڑی پر سے پھگواڑہ سٹیشن پر سے گزریں گے۔حاجی رحمت اللہ صاحب، چوہدری فیروز خان صاحب مرحوم نے میری