خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 276
خطبات مسرور جلد دہم 276 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 مئی 2012ء انہوں نے بات کی اور اللہ تعالیٰ نے پوری فرمائی۔بہر حال وہ باتیں تو وہ تھیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرمایا کرتے تھے۔اُسی نے ان کے ایمان میں اس حد تک زیادتی کی کہ یہ یقین تھا کہ یہ سب کچھ ہمیں ملنے والا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے دکھایا کہ وہ مل گیا۔حضرت میاں ظہور الدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن میرے دل میں خیال آیا کہ بندہ خدا! اگر مرزا صاحب واقعی پیر ہیں اور ہم نے ان کو نہ مانا تو پھر ہمارا کیا حشر ہوگا ؟ ایک روز میں نے اپنے پھوپھی زاد بھائی منشی عبد الغفور صاحب سے ذکر کیا کہ میں تو صبح یا شام قادیان جانے والا ہوں۔( اب یہ ان کا بیعت سے پہلے کا قصہ ہے۔انہوں نے سن کر کہا کہ کسی سے ذکر نہ کرنا۔میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گا۔لہذا اُن کی اس بات سے مجھے خوشی ہوئی اور ہم دونوں علی الصبح دوسرے روز ہی قادیان کو چل دیئے۔غالباً گیہوں گا ہے جا رہے تھے ( یعنی گندم کی کٹائی ہو کر اُس میں سے اُس کی harvesting ہو رہی تھی)۔جب ہم دونوں اسٹیشن بٹالہ پر پہنچے تو دیکہ پر سوار ہونے لگے تو آگے یکہ پر ایک سواری اور بیٹھی تھی۔وہ میاں نوراحمد صاحب کا بلی تھے۔خیر ہم یکہ پر سوار ہوکر ظہر کے وقت قادیان پہنچے۔وضو کر کے ہم دونوں مسجد مبارک میں پہنچے، اُس وقت مسجد مبارک بہت چھوٹی سی تھی۔وہاں ہم سے پہلے پانچ چھ آدمی اور بھی بیٹھے تھے۔میں نے اُن لوگوں کو خوب تاڑ تاڑ کر دیکھا (یعنی بڑے غور سے دیکھا تو مجھے کوئی ( اُن میں سے ) ایسی شکل جس کو میں دیکھنا چاہتا تھا نظر نہ آئی یعنی یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھنا چاہتے تھے لیکن بیٹھے ہوؤں میں سے کوئی ایسی شکل نظر نہ آئی کہتے ہیں) کوئی دس پندرہ منٹ کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الاول تشریف لائے جو تنگ سیڑھیوں کے دروازے میں آکر کھڑے ہو گئے۔میں اُن کو دیکھ کر جلدی سے کھڑا ہو گیا۔دل میں خیال آیا کہ اگر کوئی ہستی ہے تو یہی ہوسکتی ہے ( یعنی حضرت خلیفہ اول)۔حضرت خلیفۃ اصبح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ آپ بیٹھیں۔حضرت صاحب تشریف لاتے ہیں بڑی فراست تھی۔سمجھ گئے کہ اس کو غلط فہمی ہوئی ہے۔فرمایا کہ بیٹھیں ابھی حضرت مسیح موعود تشریف لاتے ہیں) ہمیں آپ کے فرمانے سے بیٹھ گیا اور سمجھا کہ اب جو تشریف لائیں گے وہ ان سے یعنی حضرت خلیفۃ اصبح الاول سے بڑھ کر ہی ہوں گے۔پانچ چھ منٹ گزرنے کے بعد خادم حضرت مسیح موعود نے خبر دی کہ حضرت اقدس تشریف لا رہے ہیں۔کوئی دو تین منٹ بعد مسجد مبارک کی کھڑ کی کھلی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اندر سے مسجد مبارک میں تشریف لائے کہ بس ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے سورج نصف النہار ہوتا ہے ( یعنی سورج پورا چڑھا ہوا دو پہر کے وقت ) جیسی صورت دیکھنے کی دل