خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 272 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 272

خطبات مسر در جلد دہم 272 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2012ء ( دیکھنا چاہئے کہ میرے اعمال کیا ہیں ) کہ وہ کیسا عمل ہے جس کا نتیجہ کچھ نہیں۔“ ( ملفوظات جلد 5 صفحہ 387 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) پھر اصول عبادت کا خلاصہ بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”عبادت کے اصول کا خلاصہ اصل میں یہی ہے کہ اپنے آپ کو اس طرح سے کھڑا کرے کہ گویا خدا کو دیکھ رہا ہے اور یا یہ کہ خدا اُسے دیکھ رہا ہے۔ہر قسم کی ملونی اور ہر طرح کے شرک سے پاک ہو جاوے اور اُسی کی عظمت اور اُسی کی ربوبیت کا خیال رکھے ( اور ) ادعیہ ماثورہ اور دوسری دعا ئیں خدا تعالیٰ سے بہت مانگے اور بہت تو بہ استغفار کرے اور بار بارا اپنی کمزوریوں کا اظہار کرے تا کہ تزکیہ نفس ہو جاوے اور خدا تعالیٰ سے سچا تعلق ہو جاوے اور اسی کی محبت میں محو ہو جاوے۔اور یہی ساری نماز کا خلاصہ ہے اور یہ سارا سورۃ فاتحہ میں ہی آجاتا ہے۔دیکھو اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ (الفاتحہ : 5 ) میں اپنی کمزوری کا اظہار کیا گیا ہے اور امداد کے لئے خدا تعالیٰ سے ہی درخواست کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ سے مدد اور نصرت طلب کی گئی ہے اور پھر اُس کے بعد نبیوں اور رسولوں کی راہ پر چلنے کی دعا مانگی گئی ہے اور اُن انعامات کو حاصل کرنے کے لئے درخواست کی گئی ہے جو نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ سے اس دنیا پر ظاہر ہوئے ہیں اور جو انہیں کی اتباع اور انہیں کے طریقہ پر چلنے سے حاصل ہو سکتے ہیں۔اور پھر خدا تعالیٰ سے دعا مانگی گئی ہے کہ اُن لوگوں کی راہوں سے بچا جنہوں نے تیرے رسولوں اور نبیوں کا انکار کیا اور شوخی اور شرارت سے کام لیا۔اور اسی جہان میں ہی اُن پر غضب نازل ہوا یا جنہوں نے دنیا کو ہی اپنا اصلی مقصود سمجھ لیا اور راہ راست کو چھوڑ دیا۔اور اصلی مقصد نماز کا تو دعا ہی ہے اور اس غرض سے دعا کرنی چاہیے کہ اخلاص پیدا ہو اور خدا تعالیٰ سے کامل محبت ہو اور معصیت سے جو بہت بری بلا ہے اور نامہ اعمال کو سیاہ کرتی ہے طبعی نفرت ہو اور تزکیۂ نفس اور روح القدس کی تائید ہو۔دنیا کی سب چیزوں جاہ و جلال، مال و دولت ، عزت و عظمت سے خدا مقدم ہو۔(ان کے مقابلے میں سب سے مقدم خدا ہو ) اور وہی سب سے عزیز اور پیارا ہو اور اس کے سوائے جو شخص دوسرے قصے کہانیوں کے پیچھے لگا ہوا ہے، جن کا کتاب اللہ میں ذکر تک نہیں ، وہ گرا ہوا ہے اور محض جھوٹا ہے۔نماز اصل میں ایک دعا ہے جو سکھائے ہوئے طریقہ سے مانگی جاتی ہے۔یعنی کبھی کھڑے ہونا پڑتا ہے، کبھی جھکنا اور کبھی سجدہ کرنا پڑتا ہے۔اور جو اصلیت کو نہیں سمجھتا وہ پوست ( اوپر والی جلد ) پر ہاتھ مارتا ہے“۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 335 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پھر فرمایا ” بعض لوگ مسجدوں میں بھی جاتے ہیں۔نمازیں بھی پڑھتے ہیں اور دوسرے ارکانِ