خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 271
خطبات مسرور جلد دہم 271 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2012 ء عشاء کی نماز کے ساتھ پڑھنی پڑتی ہے ( کاموں کی مصروفیت کی وجہ سے ) کیا کریں۔حضرت صاحب سے فتویٰ پوچھو۔میں نے حضور کی خدمت میں عرض کی کہ عورتوں کو بچوں کی وجہ سے مغرب کی نماز میں دیر ہو جاتی ہے، کیا کریں۔فرمایا میں تو نہیں سمجھتا کہ اگر پوری کوشش کی جائے تو دیر ہو جائے۔لیکن اگر مجبوری ہو تو عورتوں کو چاہئے کہ عشاء کی نماز مغرب کے ساتھ جمع کریں کیونکہ جس طرح صبح کے وقت فرشتے اترتے ہیں، ویسے ہی مغرب کے وقت بھی اترتے ہیں۔ایسے مغرب اور عشاء کی نماز کو اگر جمع کرنا پڑے تو مغرب کے وقت جمع کرنا بہتر ہے۔مائی کا کو صاحبہ نے روایت کے وقت کہا کہ۔۔۔اس وقت سے لے کر آج تک ہم نے یہ انتظام کر رکھا ہے کہ مغرب کی نماز سے پہلے پہلے کھانا تیار کر کے بچوں کو کھلا دیتی ہیں اور پھر مغرب کی نماز کے لئے فارغ ہو جاتی ہیں۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحہ 209) تو یہ ان لوگوں کے نمونے تھے۔نماز جمع کرنے کی طرف توجہ نہیں ہوئی بلکہ نمازیں علیحدہ پڑھنے کے لئے کیا طریق اختیار کرنا چاہئے ، اس طرف توجہ کی۔پس مائیں بھی جو بچوں کے لئے ایک نمونہ ہیں ، اُن کو اس طرف توجہ دینی چاہئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اسلام نے وہ قادر اور ہر ایک عیب سے پاک خدا پیش کیا ہے جس سے ہم دعائیں مانگ سکتے ہیں اور بڑی بڑی امیدیں پوری کر سکتے ہیں۔اسی واسطے اُس نے اسی سورۃ فاتحہ میں دعا سکھائی ہے کہ تم لوگ مجھ سے مانگا کرو۔اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ (الفاتحة: 7-6) یعنی یا الہی ہمیں وہ سیدھی راہ دکھا جو ان لوگوں کی راہ ہے جن پر تیرے بڑے بڑے فضل اور انعام ہوئے۔اور یہ دعا اس واسطے سکھائی کہ تا تم لوگ صرف اس بات پر ہی نہ بیٹھ رہو کہ ہم ایمان لے آئے بلکہ اس طرح سے اعمال بجا لاؤ کہ ان انعاموں کو حاصل کر سکو جو خدا تعالیٰ کے مقرب بندوں پر ہوا کرتے ہیں۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 386ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) فرمایا کہ ” جو شخص بچے جوش اور پورے صدق اور اخلاص سے اللہ تعالیٰ کی طرف آتا ہے وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔یہ یقینی اور سچی بات ہے کہ جو خدا کے ہوتے ہیں خدا اُن کا ہوتا ہے اور ہر ایک میدان میں اُن کی نصرت اور مدد کرتا ہے۔بلکہ اُن پر اپنے اس قدر انعام واکرام نازل کرتا ہے کہ لوگ اُن کے کپڑوں سے بھی برکتیں حاصل کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے یہ جو دعا سکھائی ہے ( یعنی اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کی تو یہ اس واسطے ہے کہ تا تم لوگوں کی آنکھ کھلے کہ جو کام تم کرتے ہو دیکھ لو کہ اُس کا نتیجہ کیا ہوا ہے“۔پھر فرمایا کہ اگر انسان ایک عمل کرتا ہے اور اُس کا نتیجہ کچھ نہیں تو اُس کو اپنے اعمال کی پڑتال کرنی چاہئے۔