خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 270 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 270

خطبات مسرور جلد دہم 270 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2012 ء لئے عموماً ایک چیلنج ہے کیونکہ شیطان آج کل اپنی کا روائیوں میں حد سے زیادہ بڑھا ہوا ہے، اور ہم نے اس کا مقابلہ کرنا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتا۔اور اللہ تعالیٰ کی مدد عبادتوں کے ذریعے حاصل کی جاسکتی ہے۔پس اس طرف بہت زیادہ توجہ دیں۔پھر شیخ نورالدین صاحب اپنی بیعت کے بعد کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔کچھ عرصے کے بعد امرتسر آ گیا۔وہاں کا روبار کی وجہ سے غفلت پیدا ہو گئی اور دینی حالت اچھی نہ رہی۔گرمیوں کے دن تھے اور دو پہر کا وقت تھا۔میں سویا ہوا تھا۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جس طرح غرغرہ کی حالت ہوتی ہے۔سوئی ہوئی حالت میں آخری وقت کی حالت پیدا ہوگئی اور خواب میں ( یہ اپنے آپ کو دیکھ رہے ہیں ) میں لوگوں کی گفتگو سنتا تھا لیکن جواب نہیں دے سکتا تھا۔میں نے پورا نقشہ دیکھا کہ مجھے غسل دیا گیا۔(یہ شاید میرا خیال ہے کشفی حالت تھی کہ مجھے غسل دیا گیا) اور کفن پہنایا گیا۔پھر مجھے دفن کر دیا گیا۔مٹی ڈال دی گئی۔جب لوگ دفن کر کے واپس آگئے تو قبر نے دونوں پہلوؤں سے مجھے اس طرح دبایا کہ میں برداشت نہ کر سکا۔اتنے میں دیکھا کہ مین سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھڑے ہیں اور میری طرف انگلی کر کے فرمایا کہ کیا آپ نے ہمارے ساتھ یہی وعدہ کیا تھا؟ ایک طرف تکلیف تھی ، دوسری طرف حضرت صاحب کے الفاظ۔میں بہت رویا اور عرض کیا حضور میں بھول گیا۔مجھے معاف فرما دیں۔میں تو بہ کرتا ہوں۔آئندہ یہ کمزوریاں نہیں دکھاؤں گا۔حضرت صاحب تشریف لے گئے۔کہتے ہیں میری آنکھ کھل گئی۔اُس حالت سے واپس آ گیا مگر اس طرح گھبرایا ہوا اور تکلیف میں تھا کہ بیان سے باہر۔آنسو نکل رہے تھے اور سخت مرعوب ہو رہا تھا۔پھر قبلہ رو ہو کر نماز شروع کی۔ایک عرصے تک میرے جسم پر اس واقعے کا اثر رہا۔تکلیف بھی اور درد بھی ہوتا رہا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحہ 9,10) پس اُس زمانے میں نیک لوگوں سے جو یہ بھول چوک ہوتی تھی تو اللہ تعالیٰ جن پر رحم کرنا چاہتا ہے اُن کو اس ذریعے سے بھی تنبیہ فرماتا ہے۔تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کا ایک پیار کا سلوک ہے کہ بگڑنے نہیں دیتا۔پھر عورتوں کے لئے بھی ایک مثال ہے۔بعض اوقات مختلف عذر پیش کر کے نمازوں کے اوقات میں باقاعدگی نہیں ہوتی۔عورتیں بعض دفعہ بہانے بنا لیتی ہیں۔بعض ایسی ہیں لیکن بعض میں نے دیکھا ہے کہ مردوں سے زیادہ نمازی ہیں اور نمازوں کی طرف توجہ ہے۔حضرت مائی کا کو صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ ہم چند عورتیں سیکھواں سے حضور کی ملاقات کے لئے آئیں۔مولوی قمر الدین صاحب کی والدہ نے مجھے کہا کہ ہمیں مغرب کی نماز روز