خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 238
خطبات مسرور جلد دہم 238 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012 ء آپ سمجھتے ہیں کہ جو بھی مغرب کی طرف منہ کر کے نماز پڑھے وہ آپ ہی کے پیچھے نماز پڑھتا ہے۔غیر احمدی کے پیچھے نماز پڑھنا تو الگ رہا مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ کوئی غیر احمدی میرے پیچھے نماز پڑھے۔مولوی صاحب یہ سن کر بڑے متعجب ہوئے اور کہنے لگے کہ دوسرے احمدیوں کا تو یہ عقیدہ نہیں اور وہ تو اپنے پیچھے کسی غیر احمدی کو نماز پڑھنے سے نہیں روکتے۔( ہر ایک کا اپنا اپنا مزاج اور سوچ ہوتی ہے۔اچھا واقعہ ہے۔میں نے کہا مولوی صاحب خدا فرماتا ہے مَا كَانَ لِلنَّبِي وَالَّذِينَ آمَنُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَلَوْ كانوا أولى قُربى (التوبة: 113) کہ نبی اور مومنوں کو چاہئے کہ وہ مشرکوں کے لئے مغفرت نہ طلب کیا کریں، اگر چہ وہ اُن کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔کیا آپ کے عقائد مشرکانہ نہیں؟ مجھے تو آپ کے عقائد مشر کا نہ لگتے ہیں اور یوں بھی میں بحیثیت امام اپنے غیر احمدی مقتدی کے لئے کیا دعا کروں گا کہ یا اللہ مجھے بخش اور اس کو بھی بخش دے جو تیرے مسیح کا منکر ہے اور اُسے گالیاں دیتا ہے۔میں نے اس واقعہ کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیا تو حضور ہنس پڑے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحہ 81-82) محمد نذیر فاروقی صاحب بیان کرتے ہیں کہ کئی سال گزرنے کے بعد 1908ء میں خود اپنے گاؤں اور گردونواح میں حکیم صاحب کی مخالفت نے زور پکڑا اور ایسی تکالیف رونما ہوئی کہ جن کی تفصیل کے لئے ایک اچھے خاصے وقت کی ضرورت ہے۔لیکن اس امر کا اظہار موجب خوشی ہے کہ ہر ایسی تکلیف میں وہ ثابت قدم رہے اور اپنی خود داری اور غیرت کو کبھی بھی ملیا میٹ نہ ہونے دیا جس کے عوض میں اللہ تعالیٰ نے حکیم صاحب کی مالی حالت کو بہتر سے بہتر بنا دیا اور وہ ہمیشہ اللہ تعالٰی، اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر یہ ادا (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحہ 236) حضرت شیخ زین العابدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں قریب البلوغ تھا کہ حضرت صاحب کے پاس قادیان آیا۔ابھی نیا نیا نو جوان تھا۔بلوغت کی عمر کو پہنچ رہا تھا۔حضور نے فرمایا میاں زین العابدین ! کیا ابھی تک آپ کی شادی کا کوئی انتظام ہوا ہے یا نہیں۔میں نے عرض کیا کہ حضور ! منگنی ہوئی تھی مگر میرے احمدیت کی طرف مائل ہونے کی وجہ سے ٹوٹ گئی ہے۔مسکرا کے فرمایا کہ تم نے تو ابھی تک بیعت نہیں کی پھر احمدیت کی وجہ سے کیسے رشتہ نہ ہو سکا۔میں نے عرض کیا کہ حضور وہ کہتے ہیں کہ مرزا صاحب کو کافر کہو اور میں یہ کہہ نہیں سکتا۔میں نے اُنہیں جواب دیا تھا کہ اگر تم ایک لڑکی کی بجائے دس کرتے تھے۔لڑکیاں دو تو بھی میں مرزا صاحب کو ولی اللہ ہی کہوں گا۔فرمایا اللہ تعالیٰ جو کچھ کرے گا بہتر کرے گا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ-5960)