خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 237 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 237

خطبات مسرور جلد دهم 237 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012 ء مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین نے مسجد مبارک کے نیچے دیوار کھینچ کر راستہ بند کر دیا تو احمدیوں کو اس سے بہت تکلیف پیدا ہو گئی جس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے عدالت میں چارہ جوئی کا ارشاد فرمایا۔اس موقع پر مجھے اور اخویم منشی عبد العزیز صاحب او جلوی کو بھی ارشاد فرمایا کہ تم اپنے حلقوں میں سے ایسے ذی عزت لوگوں کی شہادت دلواؤ جو دیوار کے گزرنے سے پہلے اس راستہ سے گزرتے ہوں۔چنانچہ میں اپنے حلقہ سے فقیر نمبر دار لوہ چپ کو قادیان لایا کیونکہ یہاں ہی جیوری آئی ہوئی تھی۔چنانچہ اُس نے شہادت دی کہ بندو بست کے دنوں میں ہم یہاں آتے رہے ہیں اور اس راستہ سے گزرتے رہے ہیں۔بعض دفعہ گھوڑوں پر سوار ہوا کرتے تھے۔مرزا نظام الدین نے اس سے شہادت سے پہلے دریافت کیا کہ تم شہادت کے لئے آئے ہو۔فقیر نمبر دار نے جواب دیا ہاں۔اس پر مرزا نظام الدین نے اُس سے سخت کلامی کی جس کے جواب میں فقیر نے کہا کہ مرزا صاحب اگر آپ مجھے گالیاں دیں گے تو جب آپ ہمارے علاقہ میں شکار کے لئے نکلیں گے تو ہم اس سے بھی زیادہ سختی آپ پر کریں گے جس پر وہ خاموش ہو گئے۔اُس واقعہ کے بعد مرز انظام الدین جو کہ میرے پہلے سے واقف تھے بوجہ ناراضگی ایک سال تک نہ بولے۔(ان سے بات نہیں کی ) ایک سال کے بعد میں اتفاقاً گورداسپور گیا ہوا تھا اور عدالت کے باہر ایک عرضی نویس کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔وہاں مرز انظام الدین بھی آگئے اور کہنے لگے۔منشی صاحب ! آپ مجھ سے ناراض کیوں ہیں اور بولتے کیوں نہیں؟ میں نے کہا میں آپ کے ساتھ اگر بات کروں اور آپ ہمارے آقا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں سخت کلامی کریں تو مجھے تکلیف ہوگی۔کہنے لگے میں اُن کو بزرگ سمجھتا ہوں۔اُن کی وجہ سے مجھے بہت فائدہ پہنچا ہے۔میں نے اپنے باغ کی لکڑی ہزاروں روپے میں فروخت کی ہے اور اب سبزی سے ہزاروں روپے کی آمد ہوتی ہے۔اُن کے یہ بھی الفاظ تھے کہ اب مجھے ولایت کی طرح آمد ہوتی ہے۔(یعنی بہت زیادہ آمد ہوتی ہے۔تو پھر ) میں نے کہا کہ ٹھیک ہے اگر آپ کے یہ خیالات ہیں تو میں صلح کرتا ہوں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 319 تا 321) خلیفہ نورالدین صاحب سکنہ جموں فرماتے ہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی احمدیت سے بہت پہلے کے میرے دوست تھے۔ایک دفعہ وہ چینیاں والی مسجد لاہور میں نماز پڑھا رہے تھے کہ میں مسجد میں داخل ہوا اور اپنی علیحدہ نماز ادا کی۔مولوی صاحب نماز سے فارغ ہو کر مجھے نماز پڑھتے دیکھ کر سمجھے کہ شاید میں نے اُن کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔اور بہت خوش ہوئے۔میں نے کہا مولوی صاحب کیا