خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 235 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 235

خطبات مسر در جلد دہم اور بہت زیادہ مارا پیٹا۔235 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012 ء (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 1 صفحہ 82 تا 84) ย حضرت حافظ نبی بخش صاحب فرماتے ہیں کہ میرا بڑا لڑکا عبدالرحمن جو تعلیم الاسلام ہائی سکول قادیان کی ساتویں جماعت میں پڑھتا تھا ، 1907ء میں سکول میں ہی فوت ہو گیا۔اُس کی سخت بیماری کی خبر سن کر میں باہر سے آیا۔حضرت مولوی نورالدین اعظم اس کا علاج فرما رہے تھے۔میں حضرت صاحب کے پاس گیا۔حضور نے اپنے پاس سے کچھ گولیاں دیں کہ دودھ میں گھس کر دو۔( گھول کر دے دو۔) ابھی یہ گولیاں نہ کھلا ئی تھیں کہ وہ فوت ہو گیا۔میں نے نعش کو فیض اللہ چک لے جانے کی اجازت طلب کی جو دے دی گئی۔دوسرے جمعہ پر میں جب پھر قادیان گیا تو مجھے دور سے دیکھ کر فرمایا میاں نبی بخش آ جاؤ۔اُس وقت بڑے بڑے آدمی حضور کے پاس بیٹھے تھے لیکن حضور نے مجھ حقیر ناچیز کو اپنی دائیں طرف بٹھایا اور فرمایا میاں نبی بخش معلوم ہوتا ہے آپ نے بڑا صبر کیا ہے۔میری کمر پر ہاتھ پھیرا اور فرما یا ہم نے آپ کے لئے بہت دعا کی ہے اور کرتا رہوں گا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نعم البدل دے گا۔( چنا نچہ پھر اُن کی اولاد بھی ہوئی۔) (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحہ 303-304) وقت ہے تو کچھ دینی غیرت کے واقعات بھی ہیں جو پیش کرتا ہوں۔حضرت ڈاکٹر محمد طفیل خان صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وہ شان تھی کہ جس کسی نے بھی حضور کی ذلت و رسوائی چاہی وہ سزا سے نہ بچ سکا۔ایک مولوی غوث محمد صاحب ساکن بھیر ہمشن سکول بٹالہ میں عربک ٹیچر تھے۔ایک موقع پر انہوں نے اپنے مدرسے کے مسلم سٹاف کے رو بروسیدنا حضرت صاحب کی شان میں سخت گستاخانہ کلمات منہ سے نکالے۔مجھے اُن کی یہ حرکت سخت ناگوار گزری۔میں اُن کی اس نازیبا حرکت کی شکایت کے لئے مسٹر بی ایم سرکار ہیڈ ماسٹر کے پاس گیا۔لیکن وہاں پہنچنے پر برق کی طرح ( جب دروازے پر پہنچا تو کہتے ہیں بجلی کی طرح) میرے دل میں خیال آیا کہ ہیڈ ماسٹر صاحب تو مسیحی ہیں، عیسائی ہیں۔باعتبار مذہب اُن کو مجھ سے کوئی ہمدردی نہیں ہو سکتی۔دوسرے لوگوں سے بہر حال اُن کو زیادہ ہمدردی ہے کیونکہ اُن کے وجود سے اُن کے مذہب کو کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا ہے۔اس لئے وہ قصور میری طرف ہی منسوب کریں گے۔میں رُک گیا لیکن اُسی وقت میرا دل اللہ کریم سے دعا کی طرف مائل ہو گیا اور میں نے دعا کی کہ مولیٰ کریم ! اس شخص نے گو حضور کے۔۔۔پیارے مرسل ( یعنی اللہ تعالیٰ کو کہا کہ تیرے پیارے مرسل) کے متعلق سخت گستاخی کے الفاظ استعمال کئے ہیں لیکن ہوسکتا ہے کہ جہالت اور عدم علمی کی وجہ سے اُس کے منہ سے ایسے الفاظ نکل گئے ہوں اور حقیقت