خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 234 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 234

خطبات مسرور جلد دہم 234 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012 ء اس سے پیدا ہوگی وہ میری مخالف ہوگی۔اس پر میں نے کہا کہ حضور منگنی کو ہوئے تو قریباً اٹھارہ سال ہو گئے تو یہ کس طرح ہو گا ؟ اس پر حضور نے فرمایا کہ میں نے جو کہنا تھا کہہ دیا۔اب تمہاری مرضی پر منحصر ہے۔اُسی وقت حضور نے حکم دیا کہ اب تمہاری نماز بھی غیروں کے پیچھے نہیں ہوسکتی۔اس کے بعد میں اپنے گھر آیا اور دوسرے دن اپنے گھر والوں کو ساتھ لے کر اپنے سسرال را چک گیا اور نماز علیحدہ پڑھنی شروع کی تو لوگوں نے کہا کہ یہ کیا مرزائی ہو گیا ہے؟ تو اس پر میں نے انہیں بتایا کہ میں احمدی ہو گیا ہوں۔اس پر میرے سر نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ کچھ عالم لاہور سے یہاں آئے ہیں۔وہ مجھے کہتے ہیں کہ تیری لڑکی کا نکاح فسخ ہو گیا ہے۔اس پر سسر نے اُس عالم کو کہا کہ میری لڑکی کا نکاح کیوں فسخ ہوا، تیری لڑکی کا ہو جائے۔یہ لڑکا تو نیک ہے۔کئی فرقے مسلمانوں میں ہیں اور سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہیں۔پھر وہ مجھے اپنے گھر لے گئے کہ کہیں لوگ زیادتی نہ کریں اور میرے سالوں نے یعنی بیوی کے بھائیوں نے میری سخت مخالفت کی۔میں نے یہ سمجھ کر کہ کہیں لڑائی نہ ہو جائے ، اپنی بیوی کو بتایا کہ مجھے نہ ڈھونڈیں میں اپنے گاؤں جا رہا ہوں۔جب میرے سسر صاحب کو علم ہوا تو انہوں نے ایک آدمی بھیج کر مجھے واپس بلا لیا۔میری بیوی نے کہا کہ تو کیوں چلا گیا؟ تو میں نے کہا کہ معلوم نہیں کہ تیرا کیا ارادہ ہے اور فتنہ کے ڈر سے چلا گیا تھا۔اُس وقت میری بیوی نے اپنے بھائیوں کو مخاطب ہو کر کہا کہ اگر احمدیت کا جھگڑا ہے تو میں پہلے احمدی اور وہ یعنی خاوند جو ہے بعد میں احمدی ہے۔جو تم میری امداد کرتے ہو مجھے اس پر کچھ پرواہ نہیں۔ہمیں رزق خدا دیتا ہے اس کے ساتھ جاؤں گی۔میرا خدا رازق ہے۔وہ اُٹھ کر میرے ساتھ چل دی۔اس کے باپ نے پکڑ لیا اور کہا کہ جب تک میں زندہ ہوں، اُس وقت تک تو میں دوں گا یعنی اپنے گھر رکھوں گا ، جب بھائیوں سے مانگنا پڑے گا اُس وقت تو جانے یاوہ۔پھر انہوں نے غلے کے دو گدھے لدوائے اور کپڑے وغیرہ دیئے اور ہمیں یہاں پہنچایا۔اُس وقت میرے دولڑ کے ابراہیم ، جان محمد اور ایک لڑکی برکت بی بی تھی۔کہتے ہیں کہ حضرت صاحب نے جس لڑکی کے متعلق دریافت کرنے پر کہا تھا کہ غیروں سے نکاح کرنا درست نہیں ، میں نے آتے ہی ایک رات میں سب بندو بست کر کے اُس کا نکاح اپنے گاؤں میں میاں سلطان علی صاحب سیکرٹری سے کر دیا۔اُس کی وجہ سے میری بیوی کو میری ہمشیرہ کی طرف سے تکلیف پہنچنے کا خیال تھا مگر حضور کے حکم کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کام کی رضامندی کا اظہار کر دیا اور اُس کو بھیج دیا۔یعنی احمدی گھر نکاح کر دیا۔صبح ہوتے ہی لوگوں نے کہنا شروع کر دیا کہ غلام محمد بے ایمان ہو گیا ہے اور میرے چند رشتہ داروں نے جو غیر احمدی تھے مجھے سخت ایذا ئیں دیں، بڑی تکلیفیں دیں