خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 233
خطبات مسرور جلد دہم 233 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012 ء یہ نصیحت کی اور یہ بھی کہا کہ اگر مجھے وہ وقت ملا تو میں سب سے پہلے اُن پر ایمان لاؤں گا۔مگر خدا کی مصلحت کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوی کرنے سے پہلے ہی وفات پا گئے۔اُس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعویٰ کیا اور میرے بھانجے رحمت علی نے بیعت کی تو میں نے اُس کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ وہ تو سیدوں کے گھرانوں میں سے ہوگا۔جو نشانیاں عام زبان زدخلائق تھیں، بتا ئیں اور کہا کہ تو تو مرزے کی بیعت کر آیا ہے۔اس پر اُس نے مجھے کہا کہ اگر اس وقت آپ نے بیعت نہ کی تو بعد میں پچھتاؤ گے۔ایک دفعہ جا کر انہیں دیکھو تو۔اُن کے بار بار کہنے پر میں قادیان اس خیال سے گیا کہ ہو سکتا ہے یہ بچے ہوں اور میں رہ جاؤں۔بلکہ میں خود حضرت مسیح موعود سے دریافت کروں گا۔اگر تسلی ہو گئی تو بیعت کر لوں گا۔ازاں بعد میں حضرت صاحب کے پاس گیا تو محمد حسن اوجلہ والے نے میرا حضرت صاحب سے تعارف کروایا۔اس وقت میں حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضور مسجد مبارک میں مفتی محمد صادق صاحب کے ساتھ باتیں کر رہے تھے۔اُس وقت مسجد اس قدر چھوٹی تھی کہ اُس کی ایک صف میں صرف چھ آدمی کھڑے ہو سکتے تھے۔میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس بیٹھ گیا اور آپ کے پاؤں دبانے لگا اور ساتھ ہی یہ بھی عرض کر دیا کہ میں نے امام مہدی کے متعلق علماء سے سنا ہوا ہے کہ وہ قرعہ شہر یمن میں ( یہ آگے ملکہ لکھا ہوا ہے۔شاید روایت میں غلط لکھا ہوا ہے ) مکہ کے منارے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اتریں گے اور امام مہدی جو سیدوں کے گھر پیدا ہوں گے نیچے اُن کو ملیں گے۔اور آپ تو مغلوں کے گھر پیدا ہوئے ہیں۔یہ کس طرح آپ امام مہدی ہو سکتے ہیں۔آپ سمجھا دیں تو بیعت کرلوں گا۔اُس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے میری پشت پر ہاتھ رکھا اور مفتی صاحب و مولوی محمد حسن صاحب کو کہا کہ ان کو سمجھائیں۔مولوی صاحب مجھے لے کر چھاپے خانے ( پریس میں ) چلے گئے۔( وہاں جا کے باتیں ہوئیں اور مجھے ساری باتیں سمجھ آگئیں ) تو میں نے سمجھ آنے پر مولوی صاحب کو کہا کہ فوراًمیری بیعت کروادیں۔وہ ظہر کا وقت تھا تو حضرت نے کہا کہ اور سمجھ لو۔پھر حضور نے میری اور ایک اور شخص کی جو سکھ تھے اور دھرم کوٹ کے رہنے والے تھے ، بیعت لی اور اُسی وقت میں نے حضرت مسیح موعود سے دریافت کیا کہ میری لڑکی جوان ہے اور اس کی منگنی اپنی ہمشیرہ کے لڑکے سے کی ہوئی ہے۔( یہاں ایک اور بھی مسئلہ کا حل انہوں نے بتایا ہے جس کے بارہ میں عموماً سوال اٹھتے ہیں کہ ہمشیرہ کے لڑکے سے اُس کی منگنی پہلے ہی کی ہوئی ہے اور وہ غیر احمدی ہے تو اس کے متعلق کیا کروں ؟ ) تو حضور نے فرما یا کہ ایک پاک وجود کا ٹکڑ ا غیروں کو دینا اچھا نہیں۔کیونکہ وہ میرے مخالف ہیں اور جونسل بھی