خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 232 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 232

خطبات مسرور جلد دہم 232 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012 ء تعلیم یافتہ فضلاء دنیا میں تبلیغ احمد یت کر رہے ہیں۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 4 صفحہ 132-133) حضرت شیخ عبدالوہاب صاحب نو مسلم کے بارے میں حبیب احمد صاحب تحریر کرتے ہیں۔حضرت شیخ صاحب دینی معاملے میں بڑے غیور واقع ہوئے ہیں۔وہ آلین بالین پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔مقابلہ کی خاص سپرٹ (spirit) خدا تعالیٰ نے اُن میں رکھ دی ہے۔مخالفین کے مقابلہ پر سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور بڑی دلیری سے مقابلہ کرتے ہیں۔ہاں جب کوئی گالیاں دینے لگ جاتا ہے تو خاموش ہو جاتے ہیں اور حضرت مسیح موعود کے اس حکم پر عمل کرتے ہیں۔گالیاں سن کر دعا دو پا کے دکھ آرام دو (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 266) حضرت میاں محمد ظہور الدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقدس ہماری بیعت لے کر اندر تشریف لے گئے جب وہ بیعت کرنے آئے تھے۔ہم پہلی مرتبہ قادیان صرف ایک ہی دن ٹھہرے کیونکہ برادرم منشی عبدالغفور صاحب کی وجہ سے جلدی آنا پڑا کیونکہ وہ ڈرتے ڈرتے ہی گئے تھے کہ لوگوں کو پتہ نہ لگ جائے اُن کے گاؤں میں کہ قادیان گئے ہیں۔کہتے ہیں لیکن بفضلِ خدا مجھے کسی کا ڈر نہ تھا۔چاہے کتنے دن اور رہ کر آتا۔اب جبکہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پہلی ملاقات کا وقت یاد آتا ہے تو بے حد رنج و افسوس ہوتا ہے کہ میں کیوں جلدی چلا آیا۔۔۔جب لوگوں کو میرے احمدی ہونے کا پورا یقین ہو گیا تو مجھے بھی تکلیفیں پہنچنے لگیں اور میرا پانی بند کر دیا گیا اور دوکانداروں سے لین دین بند کر دیا گیا اور بھنگی کو بھی منع کر دیا گیا یہاں تک کہ ہمیں دو دو تین تین دن کے فاقے ہونے لگے لیکن خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر ہے کہ مجھے اُس نے ثابت قدم رکھا۔الحمد لله على ذالك (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 362) پھر حضرت میاں غلام محمد صاحب آرائیں بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میرے والد صاحب نے جبکہ میں بھی ایک مجلس میں اُن کے ساتھ بیٹھا تھا اور یہ بات آج سے ( جب انہوں نے یہ لکھوایا ہے تحریر دی ہے) قریباً ساٹھ سال قبل کی ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ عنوانات سے معلوم ہوتا ہے کہ امام مہدی پیدا ہو چکا ہے یا ہونے والا ہے۔جب بھی وہ ظاہر ہو تو فوراً اُن کو قبول کر لینا۔کیونکہ انکار کا نتیجہ دنیا میں تباہی و بربادی ہوتی ہے۔اور آخرت میں بھی اس کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔تمام حاضرین کو بار بار