خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 223 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 223

خطبات مسر در جلد دہم 223 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 اپریل 2012 ء ہوسکی۔مرحوم کی اہلیہ محترمہ نے بیان کیا کہ شہید نہایت ملنسار، محبت کرنے والے، شاکر ، ہمدرد اور دعا گو انسان تھے۔ہم سب کا بہت خیال رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ سخت رویہ بھی نہیں اپنایا۔باوجود تکلیف اور مشکل کے عزیزوں کی خوشیوں میں شامل ہوتے تھے۔شہادت سے ایک روز قبل بچوں کوصبر ، ہمت اور خلافت سے وابستگی کی تلقین کی۔اللہ کرے یہ ان کی نسلوں میں جاری رہے۔بلکہ ان کی اہلیہ نے جو خط مجھے لکھا اس میں انہوں نے لکھا کہ میرے میاں اکثر مجھے یہ کہا کرتے تھے۔فیر میں تینوں یاد آواں گا“ یعنی ان کو پہلے کچھ اپنے بارے میں تھا اور آخری لمحات میں بھی یہی نصیحتیں کیں کہ میری والدہ کا خیال رکھنا، بچوں کا خیال رکھنا۔تو یہ اُن کو تو خیر یاد آئیں گے ہی آئیں گے لیکن قدوس شہید سے ہمیں بھی یہ وعدہ کرنا چاہئے اور اہلِ ربوہ کو بھی کہ ہم احسان فراموش نہیں ہیں۔یقیناً انہوں نے جماعت پر بہت زیادہ احسان کیا ہے اور محسنوں کو جماعت کبھی بھلایا نہیں کرتی۔ہمیں بھی وہ انشاء اللہ ہمیشہ یادر ہیں گے۔فون پر میری ان کی والدہ سے بھی اور بچوں سے بھی بات ہوئی تھی، والدہ بوڑھی لیکن بڑی پرعزم ہیں۔اور کوئی غم نہیں تھا۔بچے ماشاء اللہ اپنے غم کی بجائے میرا حال پوچھ رہے تھے۔اسی طرح اہلیہ سے بات ہوئی۔وہ بھی بڑی صابر وشاکر تھیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو صبر کی توفیق عطا فرمائے اور خود ان کا حافظ و ناصر ہو۔والدین بوڑھے ہیں۔ان کے والد تو یہاں ہالینڈ میں ہی رہتے ہیں لیکن والدہ وہاں، ان کے ساتھ ، قدوس کے ساتھ ہی رہتی تھیں۔اسی طرح ان کی اہلیہ ہیں جیسے میں نے بتایا۔اس کے علاوہ ایک بیٹا عبد السلام چودہ سال کا ہے جو آٹھویں کلاس کا طالبعلم ہے۔عبدالباسط تیرہ سال کا ساتویں کلاس میں ہے، عبدالوہاب پانچ سال کا پہلی کلاس میں اور ایک بیٹی عطیۃ القدوس ہے دس سال کی جو چوتھی میں ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب بچوں کا بھی حافظ و ناصر ہو۔ابھی نماز جمعہ کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ ان کی نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 27 اپریل تا 3 مئی 2012 جلد 19 شماره 17 صفحه 5 تا9)