خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 222 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 222

خطبات مسرور جلد دہم 222 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 اپریل 2012 ء تھے۔محلہ دارالرحمت شرقی میں انہیں اطفال الاحمدیہ کے دور میں مجلس کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق ملی۔پانچویں کلاس میں زیر تعلیم تھے جب سے جماعتی خدمات بجالا رہے تھے۔مجلس خدام الاحمدیہ میں بطور منتظم اطفال، بعد ازاں دس سال تک زعیم حلقہ کے عہدے پر فائز رہے۔1994ء میں نصرت آباد شفٹ ہوئے تو یہاں بھی فوری طور پر جماعت کے کاموں میں شامل ہو گئے اور خدمت کی توفیق پائی۔محلہ نصرت آباد میں زعیم حلقہ اور مجلس صحت کے زیر انتظام شعبہ کشتی رانی کے انچارج تھے۔کشتی رانی اور سوئمنگ بھی ان کو بڑی اچھی آتی تھی۔اڑھائی سال قبل صدر محلہ منتخب ہو گئے تھے۔بطور صدرمحلہ بڑے احسن رنگ میں خدمات بجالا رہے تھے۔آپ کے محلے کے احباب کے مطابق شہید مرحوم بہت زیادہ حسنِ سلوک سے پیش آنے والے اور بلند حوصلے کے مالک تھے۔ان کے ساتھ اگر کوئی شخص سخت لہجے میں بھی سخت الفاظ میں بھی بولتا تو اس بات کو ہنس کر ٹال دیا کرتے تھے۔عہدے داروں کو بھی یادرکھنا چاہئے کہ یہی رویہ ہر عہدے دار کا ہونا چاہئے۔آپ کو مجلس خدام الاحمدیہ کے شعبہ حفاظت مرکز میں بھی ایک لمبا عرصہ خدمت کی توفیق ملی۔2002ء سے شہادت تک حفاظت مرکز کے تحت علوم ب کے انچارج رہے۔تمام ڈیوٹی دہندگان اور کارکنان کے ساتھ انتہائی شفقت سے پیش آیا کرتے تھے۔اگر دیر تک ڈیوٹیاں ہیں تو اُن کے کھانے پینے ، چائے وغیرہ کے انتظام کرنا اور خود جا کر پہنچانا ان کا معمول تھا، خدام ان سے بڑے خوش تھے۔ماسٹر عبدالقدوس صاحب شہید نہایت اچھے اور خوش مزاج طبیعت کے مالک تھے۔خدمت خلق کا جنون کی حد تک شوق تھا۔دریائے چناب میں جب کبھی کوئی ڈوب جاتا تو احمدی یا غیر احمدی کا فرق کئے بغیر اُس کی لاش تلاش کرنے میں اپنے ساتھیوں کی نگرانی کرتے ہوئے دن رات محنت کرنے لگ جاتے ، اور اُس وقت تک چین سے نہیں بیٹھتے تھے جب تک کہ نعش کو تلاش نہ کر لیں۔بچپن سے وفات تک مختلف جماعتی عہدوں پر کام کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔شہید مرحوم اطاعت اور فرمانبرداری کا ایک نمونہ تھے اور جماعتی عہد یداران کی عزت و احترام کا بہت زیادہ خیال رکھنے والے تھے۔طالب علمی کے دور سے ہی اُنہیں ورزشی مقابلہ جات میں حصہ لینے کا بہت شوق تھا۔کبڈی، ہا کی ، فٹ بال، کرکٹ وغیرہ کے اور کشتی رانی کے اچھے پلیئر تھے۔ڈیوٹی دینے کے دوران میں نے دیکھا ہے، میرے ساتھ بھی انہوں نے ڈیوٹیاں دی ہیں کہ کبھی سامنے آکر ڈیوٹی دینے کا شوق نہیں تھا۔کوئی نام و نمود نہیں تھی۔بڑھ بڑھ کے آگے آنے کا بعضوں کو شوق ہوتا ہے۔باوجود انچارج ہونے کے پیچھے رہتے تھے، اور اپنے ماتحتوں کو آگے رکھتے تھے۔ان کی والدہ محترمہ کی خواہش تھی کہ جامعہ میں جائیں لیکن بہر حال وہ خواہش پوری نہیں