خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 220
خطبات مسرور جلد دہم 220 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 اپریل 2012 ء سے ہی سعید فطرت جماعت احمدیہ میں شامل ہوتے چلے جائیں گے۔پس ہر قربانی ہمیں اس طرف توجہ دلاتی ہے اور دلانی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہماری اقلیت کو اکثریت میں بدلنے کے لئے ہم سے ایک اور چھلانگ لگوائی ہے۔اور قدوس شہید جیسی قربانیاں تو سینکڑوں چھلانگیں لگوانے کا باعث بنتی ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ بنیں گی۔ہمارا رد عمل نہ مایوسی ہے، نہ شدت پسندی۔ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کئے گئے اللہ تعالیٰ کے وعدوں پر کامل یقین ہے بلکہ ہم پورا ہوتے بھی دیکھ رہے ہیں۔آپ کو اور آپ کی جماعت کو اللہ تعالیٰ نے صبر اور دعا کے ساتھ اپنا کام کرتے چلے جانے کے لئے کہا ہے اور پھر کامیابی مقدر ہونے کا وعدہ کیا ہے۔پس کون ہے جو ہمارے سے ہماری اس تقدیر کو چھین سکے جس کا خدا تعالیٰ نے فیصلہ کر لیا ہے۔ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ ہماری بے صبری ، ہمارے ایمان کی کمزوری ہم سے اُن کامیابیوں کو دور نہ کر دیں جو مقدر ہیں۔یہ بھی یادرکھیں کہ جماعت احمدیہ نے ملک کے بنانے میں بھی اور اس کی تعمیر و ترقی میں بھی کردار ادا کیا ہے۔اور قربانیاں بھی دی ہیں۔آج بھی ملک کو احمدیوں کی دعائیں ہی بچا رہی ہیں اور بچا سکتی ہیں۔ہم اپنے بڑوں کی قربانیوں کو جو انہوں نے ملک کے لئے دیں ان دکھوں ، تکلیفوں اور شہادتوں کی وجہ سے ضائع نہیں کریں گے۔انشاء اللہ۔پس ان ظلموں کو ختم کرنے کا ایک ہی علاج ہے۔اس ملک کو بچانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ پہلے سے زیادہ خدا تعالیٰ کے حضور جھک کر اُس کا فضل مانگیں۔ہم مظلوم بننے کے ساتھ اگر پہلے سے بڑھ کر تقویٰ ، صبر، توکل ، ثبات قدم، دعا اور استغفار سے کام لیں گے تو انشاءاللہ تعالیٰ فتح کے نظارے جلد تر دیکھیں گے۔اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو اور ہم پاکستان اور دوسرے اسلامی ممالک سے دین کے نام پر ظلم اور ہر قسم کے ظلم کو جلد تر ختم ہوتا دیکھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : " مامورین اور اُن کی جماعت کو زلزلے آتے ہیں۔ہلاکت کا خوف ہوتا ہے۔طرح طرح کے خطرات پیش آتے ہیں۔سن بوا “ کے یہی معنے ہیں۔دوسرے ان واقعات سے یہ فائدہ ہے کہ کچوں اور پتوں کا امتحان ہو جاتا ہے۔کیونکہ جو کچے ہوتے ہیں ان کا قدم صرف آسودگی تک ہی ہوتا ہے۔جب مصائب آئیں تو وہ الگ ہو جاتے ہیں۔میرے ساتھ یہی سنت اللہ ہے کہ جب تک ابتلا نہ ہو تو کوئی نشان ظاہر نہیں ہوتا۔خدا کا اپنے بندوں سے بڑا پیار یہی ہے کہ ان کو ابتلا میں ڈالے جیسے کہ وہ فرماتا ہے : وبشر الصبرين۔الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتُهُمْ مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ (البقرة: 157-156) یعنی ہر ایک