خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 218
خطبات مسر در جلد دہم 218 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 اپریل 2012 ء نازیبا الفاظ کہہ کر ہمارے دلوں کو چھلنی کرتے ہیں، اذیتیں دے کر خوش ہوتے ہیں، ایک دن انشاء اللہ آنے والا ہے جب خدا تعالیٰ ان میں سے ایک ایک سے حساب لے گا۔شہید مرحوم احمدیوں کے لئے جو پاکستان میں رہنے والے ہیں بالعموم اور اہلِ ربوہ کے لئے بالخصوص یہ پیغام بھی چھوڑ کر گئے ہیں کہ قانون کا احترام اور حکومتی کارندوں کا احترام بیشک ہر احمدی کا فرض ہے لیکن کسی بھی انسان سے چاہے وہ کتنا ہی بڑا پولیس اہلکار ہو یا افسر ہو، خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔چاہے جو ظلم بھی وہ ہم پر روا ر کھے ایک احمدی کو اگر خوف ہونا چاہئے تو صرف ایک ہستی کا ، اور وہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے۔پولیس اہلکاروں کا زور صرف قانون کا احترام کرنے والوں پر چلتا ہے۔دہشت گردوں کے سامنے، ملاں کے سامنے، جس نے توڑ پھوڑ اور شدت پسندی کرنی ہے، جس نے ان کا مقابلہ کرنا ہے، جس نے ان کو آگے سے بموں سے اڑانا ہے، اُن کے سامنے تو ان کی لکھی بندھ جاتی ہے۔گزشتہ دنوں غیر از جماعت دوستوں سے، جو مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے والے تھے، ایک مجلس ہوئی تو ایک صاحب مجھے کہنے لگے کہ آپ کی جماعت کی ایک خصوصیت ہے کہ ہر ایک نے عہد بیعت کیا ہوا ہے۔اور جو آپ انہیں کہیں وہ مانتے ہیں اور ماننے کو تیار ہو جاتے ہیں، تو پاکستان کے حالات کے بدلنے میں آپ لوگ کوئی عملی قدم کیوں نہیں اُٹھاتے۔انہیں میں نے بتایا کہ سیاسی نظام کا حصہ تو ہم نہیں بن سکتے۔کیونکہ قانون احمدی کو کہتا ہے کہ سیاست میں آنے کے لئے پہلے اپنے آپ کو غیر مسلم کہو، پھر جمہوری نظام کا حصہ بنوجس میں ووٹ ڈالنے کا حق ہے اور یہ ہم کبھی نہیں کریں گے، ہم کر نہیں سکتے۔دوسرے سڑک پر اپنی طاقت کا اظہار ہے یا شدت پسندی ہے، یاد ہشتگردی ہے، ہم نے یہ بھی نہیں کرنی کیونکہ ہم قانون کے پابند لوگ ہیں اور یہی ہم نے اس زمانے کے ہادی کو مان کر سیکھا ہے اور جو صیح اسلامی تعلیم ہے اس سے بھی ہم دُور نہیں جا سکتے۔پس حکومتی ادارے تو اُن کا ساتھ دیتے ہیں جو شدت پسند ہیں یا اُن سے ڈرتے ہیں جو شدت پسند ہیں، جن کی سڑک کی طاقت ہے، جو سڑکوں پر آجاتے ہیں۔اسی طرح سیاستدان بھی انہی کی سنتے ہیں تبھی تو احمد یوں کو اُن کے جائز حقوق سے بھی محروم کیا جاتا ہے۔میں نے اُن کو کہا کہ جہاں تک بیعت کا تعلق ہے، یہ بیعت ہی تو ہے جس کی وجہ سے خاموشی سے احمدی اپنی جان مال کی قربانیاں دیتے چلے جارہے ہیں اور کوئی قانون ہاتھ میں نہیں لیتے۔لیکن بہر حال ایک وقت انشاء اللہ آئے گا جب یہی لوگ احمدیوں کی عزت اور احترام کرنے پر مجبور ہوں گے۔گو آج ہمیں فلموں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن خدا