خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 206 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 206

خطبات مسرور جلد دہم 206 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2012ء ہے۔اور کسی کو یہ خیال نہیں رہتا کہ جن کے بچے ہیں، اس کے نتیجے میں بچوں پر کیا اثر ہوگا۔پس دونوں طرف سے تقویٰ میں کمی ہے اور عملی حالتوں کی کمزوری کا اظہار ہوتا ہے۔پھر ہر احمدی کو یہ بھی خیال رکھنا چاہئے کہ ہماری سچائی دوسروں پر تب ظاہر ہوگی جب ہر معاملے میں ہمارے سے سچائی کا اظہار ہوگا۔اگر ہمارے ذاتی معاملات میں اپنے مفادات میں ہمارے رویے خودغرضانہ ہوجائیں تو بیعت میں آنے کے بعد جو عملی اصلاح کا عہد ہے، اُس کو ہم پورا کرنے والے نہیں ہو سکتے۔قرآن کریم تو کہتا ہے کہ اگر تمہیں سچائی اور انصاف کے لئے اپنے خلاف یا اپنے والدین کے خلاف یا اپنے قریبیوں کے خلاف بھی گواہی دینی پڑے تو دو۔لیکن عملاً ہمارے طریق اور عمل اس سے مختلف ہوں تو ہم کیا انقلاب لائیں گے۔میں اکثر انصاف کے قیام کے لئے غیروں کو قرآنِ کریم کے اس حکم کا بھی حوالہ دیتا ہوں اور دعویٰ کرتا ہوں کہ جماعت احمد یہ ہی صحیح اسلامی تعلیم پر چلنے والی ہے۔لیکن اگر کسی غیر کے تجربے میں احمدی کے عمل اس سے مختلف ہیں تو اس پر اس بات کا کیا اثر ہو گا ؟ ایسے احمدی احمدیت کی تبلیغ کے راستے میں روک ہیں۔پس اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔اپنے محاسبے کی ضرورت ہے۔اسی طرح قرآن کریم کے بے شمار حکم ہیں۔پس ہماری عملی اصلاح تب مکمل ہو گی جب ہم ہر لحاظ سے، ہر پہلو سے اپنے جائزے لیں ، اپنی برائیوں کو دیکھیں۔جب ہماری عملی اصلاح ہو گئی تب ہم سمجھ سکیں گے کہ ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کا حق ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔ورنہ صرف ماننے سے، آپ کے تمام دعاوی پر یقین کرنے سے ایک حصے کو تو ہم ماننے والے ہو گئے لیکن ایک حصہ چھوڑ دیا جو نہایت اہم ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔انسان کو نہیں پتہ کہ چھوٹی نیکی اُس کے لئے کیا ہے اور بڑی نیکی کیا ہے۔احادیث سے ثابت ہے کہ ایک نیکی ایک کے لئے چھوٹی ہے اور دوسرے کے لئے بڑی، یا اس کی تعریف مختلف ہے۔مثلاً ایک صحابی کے پوچھنے پر کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔بڑی نیکی کیا ہے۔آپ نے فرمایا کہ جہادفی سبیل اللہ بڑی نیکی ہے۔(صحیح مسلم کتاب الایمان باب بیان کون الایمان بالله تعالى افضل الاعمال (248) پھر ایک اور موقع پر ایک دوسرے صحابی کے پوچھنے پر کہ بڑی نیکی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا ماں باپ کی خدمت کرنا۔(صحیح بخاری کتاب مواقيت الصلاة باب فضل الصلاة لوقتها 527) پھر ایک تیسرے موقع پر ایک تیسرے صحابی کے پوچھنے پر کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑی