خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 205
خطبات مسر در جلد دہم 205 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2012ء بھی توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔خاص طور پر عورتوں کو جن کے پاس زیور وغیرہ بھی ہوتے ہیں۔اسی طرح وہ لوگ جن کے رقمیں ایک سال سے زیادہ پڑی رہتی ہیں۔اس طرف ویسی توجہ نہیں ہے جو ایک احمدی کو ہونی چاہئے۔ایک تعداد تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے یقیناً ایسی ہے جو ایک ایک پائی کا حساب رکھ کر چندے بھی دیتی ہے اور زکوۃ بھی دیتی ہے لیکن بعض لوگ ایسے ہیں جو چندوں کو کافی سمجھتے ہیں اور زکوۃ نہیں دیتے۔یا سیکرٹریانِ مال جو ہیں اُن کو اس طرف توجہ نہیں دلاتے جس وجہ سے اُن کو اس کی اہمیت کا اندازہ نہیں ہے۔پس اس طرف بھی توجہ کی بہت ضرورت ہے۔پھر عملی حالتوں کی تبدیلی میں ہر برائی جس کا قرآنِ کریم میں ذکر ہے اُس کو چھوڑنا اور ہر نیکی جس کا قرآنِ کریم میں ذکر ہے اس کا اختیار کرنا شامل ہے۔پس ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کو ہر وقت سامنے رکھنا ہو گا کہ قرآن کریم کے سات سو حکموں میں سے ایک حکم کی بھی نافرمانی نہ کرو۔کشتی نوح - روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 26 و28) پس ہمیشہ ہمیں اس کوشش میں رہنا چاہئے کہ بظاہر چھوٹے سے چھوٹے گناہ سے بھی بچنا ہے۔شروع میں جو میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا اقتباس پڑھا ہے، اُس میں آپ نے یہی توجہ دلائی ہے کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں میں مبتلا ہو کر یہ نہ سمجھو کہ یہ گناہ نہیں ہے۔جو بظاہر کسی کو نظر نہیں آ رہے، ان گناہوں کو اپنی عارفانہ خوردبین استعمال کر کے دیکھو، خود تلاش کرو، اپنے جائزے لو۔پھر پتہ لگے گا کہ یہ حقیقت میں گناہ ہے۔ریا کی مثال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دی ہے۔اب یہ اکثر کسی کو بھی نظر نہیں آئے گی۔خود انسان کو اگر وہ حقیقت پسند بن کے اپنا جائزہ لے تو پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ کام جو وہ کر رہا ہے یہ دنیا دکھاوے کے لئے ہے یا خدا تعالیٰ کی خاطر؟ اگر انسان کو یہ پتہ ہو کہ میرا ہر عمل خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہونا چاہئے اور ہو گا تو تبھی مجھے ثواب بھی ملے گا تو تبھی وہ نیک اعمال کی طرف کوشش کرتا ہے۔تبھی وہ اس جستجو میں رہے گا کہ میں زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کی تلاش کروں اور اُن پر عمل کروں۔اور جب یہ ہوگا تو پھر نہ ریا پیدا ہوگی نہ دوسری برائیاں پیدا ہوں گی۔اسی طرح قرآنِ کریم میں رشتہ داروں سے حسن سلوک کا حکم ہے۔اس میں سب سے پہلے تو اپنے ماں باپ اور بیوی بچے ہیں۔اسی طرح پھر آگے تعلق کے لحاظ سے۔اس تعلق میں ایک بات کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ آجکل برداشت کی کمی مردوں اور عورتوں ، دونوں میں بہت زیادہ ہے۔حالانکہ برداشت اور صبر کی بھی خدا تعالیٰ نے بہت تلقین فرمائی ہے۔اور اس کمی کی وجہ سے رشتے ٹوٹنے کی تعداد بڑھ رہی