خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 204 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 204

خطبات مسرور جلد دہم 204 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2012ء حاصل کرنا ہے اور وہ اس ذریعے سے حاصل ہو گا جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نماز معراج ہے۔اس معراج کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔پس پہلے عہدیدار اپنے جائزے لیں اور پھر اپنے زیر اثر بچوں ، نو جوانوں اور لوگوں کو اس طرف توجہ دلائیں۔ہماری کامیابی اُسی وقت حقیقت کا روپ دھارے گی جب ہر طرف سے آوازیں آئیں گی کہ نماز کے قیام کی کوشش کرو۔ورنہ صرف یہ عقیدہ رکھنے سے کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام فوت ہو گئے ، یا قرآن کریم کی کوئی آیت منسوخ نہیں ہے، یا تمام انبیاء معصوم ہیں یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام وہی مسیح و مہدی ہیں جن کے آنے کی پیشگوئی تھی ، تو اس سے ہماری کامیابیاں نہیں ہیں۔ہماری کامیابیاں اپنی عملی حالتوں کو اُس تعلیم کے مطابق ڈھالنے میں ہیں جو خدا تعالیٰ نے ہمیں دی۔جس میں سب سے زیادہ اہم نماز کے ذریعے خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہے۔ورنہ ہمارا یہ دعویٰ بھی غلط ہے کہ شرک نہیں کروں گا۔شرک تو کر لیا اگر اپنی نمازوں کی حفاظت نہ کی۔اللہ تعالیٰ نے تو حکم دیا ہے کہ نمازیں پڑھو۔نمازوں کے لئے آؤ۔اگر نمازوں کی حفاظت نہیں ہے تو اس کا مطلب ہے کہ نماز کی جگہ کوئی اور متبادل چیز تھی جس کو زیادہ اہمیت دی گئی تو یہ بھی شرک خفی ہے۔پھر جن نیک اعمال کی طرف ہمیں خدا تعالیٰ نے توجہ دلائی ہے اس میں دوسروں کے حقوق بھی ہیں۔دنیاوی لالچوں میں آکر حقوق غصب کئے جاتے ہیں۔اُس وقت انتہائی شرمندگی ہوتی ہے اور افسوس بھی ہوتا ہے جب میرے پاس غیر از جماعت لوگوں کے خطوط آتے ہیں کہ آپ کے فلاں احمدی نے میرے ساتھ دھو کہ کیا ہے۔مجھے میرا حق دلوایا جائے۔تو یہ باتیں جیسا کہ میں نے کہا کہ تبلیغ میں بھی روک بنتی ہیں، بلکہ بعض نئے احمدیوں کے لئے بھی ٹھوکر کا باعث بن جاتی ہیں۔ابھی گزشتہ دنوں ایک عرب احمدی نے لکھا کہ وہ جماعت چھوڑ رہے ہیں، جب وجہ پستہ کی تو پتہ چلا کہ بعض احمدیوں کے عمل سے دل برداشتہ ہو کر وہ یہ کہ رہے تھے لیکن عقیدے کے لحاظ سے اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اپنے دعوے میں بچے ہیں۔پس جہاں یہ ان کی غلطی ہے کہ بعض احد یوں کو دیکھ کر نظام جماعت سے دور ہٹ جائیں او تعلق توڑ لیں ، وہاں اُن احمدیوں کو بھی سوچنا چاہئے جن میں سے بعض عہد یدار بھی ہیں کہ کسی کی ٹھوکر کا باعث بن کر وہ کتنے بڑے گناہ سہیڑ رہے ہیں۔ایک بات کی طرف خاص طور پر میں توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیشک مالی قربانی میں تو جماعت کے افراد بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں لیکن مالی قربانی کا ایک پہلوز کو ۃ ہے۔اُس طرف