خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 190
خطبات مسرور جلد دہم 190 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 23 مارچ 2012ء توفیق عطا فرمائے۔اگر کوئی نیکیاں ہمارے اندر ہیں تو اُن کے معیار پہلے سے بلند ہوتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ اُن کو بلند کرنے کی ہمیں توفیق عطا فرمائے تا کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کے مقصد کو پورا کرنے والے بن سکیں۔آج میں نے احتیاطاً پاکستان کے حوالے سے کچھ نوٹس رکھ لئے تھے۔پاکستان میں بھی 23 مارچ کو یوم پاکستان منایا جا رہا ہے اور اس حوالے سے بھی پاکستانی احمدیوں کو میں کہوں گا کہ دعا کریں کہ جس دور سے آج کل ملک گزر رہا ہے وہ انتہائی خطرناک ہے۔اللہ تعالیٰ اس ملک کو بچائے۔احمدیوں کی خاطر ہی اس کو بچائے۔کیونکہ احمدیوں نے اس ملک کو بچانے کی خاطر بہت دعائیں کی ہیں لیکن پھر بھی یہی کہا جاتا ہے اس لئے چند حقائق بھی میں پیش کروں گا کہ احمدی کس حد تک اس ملک کے بنانے میں اپنا کردار ادا کرتے رہے؟ وو دور جدید ایک اخبار تھا، اُس نے 1923ء میں چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کے متعلق یہ لکھا کہ پنجاب کو نسل کے تمام مسلمانوں نے (جو ) ( یقیناً مسلمانان پنجاب کے نمائندے کہلانے کا جائز حق رکھتے ہیں ) جبکہ یہ ضرورت محسوس کی کہ پنجاب کی طرف سے ایک مستند نمائندہ انگلستان بھیجا جانا چاہئے تو عالی جناب چوہدری ظفر اللہ خان صاحب ہی کی ذات ستودہ صفات تھی جس پر اُن کی نظر انتخاب پڑی۔چنانچہ چوہدری صاحب نے اپنا روپیہ صرف کر کے اور اس خوبی اور عمدگی سے حکومت برطانیہ اور سیاسین انگلستان کے رو برو یہ مسائل پیش کئے جس کے مداح نہ صرف مسلمانانِ پنجاب ہوئے بلکہ حکومت بھی کافی حد تک متاثر ہوئی۔( اخبار دور جدید لاہور 16 اکتوبر 1923 بحوالہ تحریک پاکستان میں جماعت احمدیہ کی قربانیاں از مرز خلیل احمد قمر صفحہ 11) سیہ وہ واقعات ہیں اور وہ روشن حقائق ہیں جن سے کم از کم اخباری دنیا کا کوئی شخص کسی وقت بھی انکار نہیں کر سکتا۔پھر ممتاز ادبی شخصیات میں سے مولانا محمد علی جوہر صاحب ہیں۔اپنے اخبار ” ہمدرد مؤرخہ 26 ستمبر 1927ء میں لکھتے ہیں کہ : ناشکری ہوگی کہ جناب میرزا بشیر الدین محمود احمد اور اُن کی اس منظم جماعت کا ذکر ان سطور میں نہ کریں جنہوں نے اپنے تمام تر توجہات ، بلا اختلاف عقیدہ تمام مسلمانوں کی بہبودی کے لئے وقف کر دی ہیں۔اور وہ وقت دور نہیں جبکہ اسلام کے اس منظم فرقے کا طرز عمل سواد اعظم اسلام کے لئے بالعموم اور