خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 173
خطبات مسرور جلد دہم 173 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2012ء کی وفات کا ان کو پتہ لگا تھا تو خود وہاں نیا می مشن ہاؤس میں تشریف لائے۔مبلغ انچارج کے ساتھ تعزیت کی۔ان کی اولاد بھی ہے اٹھارہ بیٹے بارہ بیٹیاں۔ان کی چار پانچ شادیاں تھیں۔مبلغ انچارج نائیجرا کبر احمد صاحب بتاتے ہیں کہ انہیں دو مرتبہ آگادیس جانے کا موقع ملا اور بہت مہمان نواز تھے۔مشنری انچارج کی بہت مہمان نوازی کرتے تھے ، عزت کرتے تھے۔ملک کے دارالحکومت نیا می جب تشریف لاتے تھے۔کہتے ہیں خاکسار کو پتہ چلتا تو ان سے ملنے جاتا۔بہت محبت سے ملتے اور ہمیشہ جماعت کے حالات پوچھتے۔خلیفہ ایچ کے بارے میں پوچھتے۔اپریل 2004ء میں جب میں بینن کے دورے پر گیا ہوں تو پھر یہ پرا کو تشریف لائے تھے۔ہمسایہ ملک نائیجر ہے، وہاں سے باسٹھ افراد پر مشتمل وفد آیا تھا اور اس وفد میں مرحوم سلطان آف آگادیس بھی تھے۔گیارہ رکنی وفد کے ساتھ اُس میں شامل تھے۔وہاں ان سے میری ملاقات ہوئی اور وہاں بھی انہوں نے مجھے بتایا کہ میں تقریباً تین چار دن اور رات کا سفر کر کے آیا ہوں۔صحراء میں سفر بھی بہت مشکل ہے۔یہ دو ڈھائی ہزار کلومیٹر کا سفر کر کے آئے تھے۔وہاں اُن کے ساتھ مختلف باتیں ہوتی رہیں۔تصویریں وغیرہ بھی انہوں نے کھنچوائیں مل کے بڑے خوش تھے۔نائیجر کے احمدیوں میں بھی بہت زیادہ اخلاص و وفا ہے۔اور باوجود اس کے کہ سلطان تھے اور بڑے سلطانوں میں سے تھے، بڑی عاجزی اور انکساری ان میں پائی جاتی تھی۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 16 اپریل تا 12 اپریل 2012 جلد 19 شماره 14 صفحہ 5 تا 8 )