خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 171 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 171

خطبات مسرور جلد دہم 171 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2012ء اپنے اندر الہی نور نہ رکھتے تھے وہ عموماً ٹھو کر کھا گئے اور اسلام سے دور جا پڑے۔اور بجائے اس کے کہ ان علوم کو اسلام کے تابع کرتے ، الٹا اسلام کو علوم کے ماتحت کرنے کی بے سود کوشش کر کے اپنے زعم میں دینی اور قومی خدمات کے متکفل بن گئے۔مگر یاد رکھو کہ یہ کام وہی کر سکتا ہے یعنی دینی خدمت وہی بجالا سکتا ہے جو آسمانی روشنی اپنے اندر رکھتا ہو۔“ پس یہ آسمانی روشنی حاصل کرنے کی کوشش ہو۔پھر آپ فرماتے ہیں: ( ملفوظات جلد اول صفحہ 69۔مطبوعہ لندن ) ” میری یہ باتیں اس لئے ہیں کہ تاتم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو اور اس تعلق کی وجہ سے میرے اعضاء ہو گئے ہو۔“ ( اب یہ جو لفظ اعضاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے استعمال کیا ہے ایک ایسا بہت بڑا اعزاز ہے کہ تم میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو اور اس تعلق کی وجہ سے میرے اعضاء ہو گئے ہو۔اعضاء بھی انسان کے خود تو کام نہیں کر سکتے ، جو دماغ حکم دیتا ہے اس کے مطابق چلتے ہیں۔پس یہ ہراحمدی کی بہت بڑی ذمہ داری ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی اس توقع پر پورا اترنے کی کوشش کرے۔ہمارے وہ کام ہوں جو اسلام کی ، قرآن کی حقیقی تعلیم کے مطابق ہیں۔جن کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس زمانے میں ہمیں بار بار نصیحت فرمائی ہے۔اس کے بغیر ہم اپنی بیعت کا حق ادا نہیں کر سکتے۔فرمایا کہ ان باتوں پر عمل کرو۔اور عقل اور کلام الہی سے کام لو تا کہ سچی معرفت اور یقین کی روشنی تمہارے اندر پیدا ہو اور تم دوسرے لوگوں کو ظلمت سے نور کی طرف لانے کا وسیلہ بنو۔اس لئے کہ آجکل اعتراضوں کی بنیا طبعی اور طبابت اور ہیئت کے مسائل کی بناء پر ہے۔اس لئے لازم ہوا کہ ان علوم کی ماہیت اور کیفیت سے آگاہی حاصل کریں تا کہ جواب دینے سے پہلے اعتراض کی حقیقت تو ہم پر کھل جائے۔“ ( ملفوظات جلد اوّل صفحہ 68 - مطبوعہ لندن ) پھر آپ فرماتے ہیں:۔تم میری بات سن رکھو اور خوب یاد کر لو کہ اگر انسان کی گفتگو سچے دل سے نہ ہو اور عملی طاقت اس میں نہ ہو تو وہ اثر پذیر نہیں ہوتی۔( جو بھی بات کرنی ہے سچے دل سے ہونی چاہئے اور تمہارا عمل بھی اس کے مطابق ہونا چاہئے ، ورنہ وہ اثر نہیں کرتی۔فرما یا ) اسی سے تو ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی صداقت معلوم ہوتی ہے کیونکہ جو کامیابی اور تاثیر فی القلوب آپ کے حصہ میں آئی اس کی کوئی نظیر بنی آدم کی تاریخ میں نہیں ملتی اور یہ سب اس لئے ہوا کہ آپ کے قول