خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 170
خطبات مسر در جلد دہم 170 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2012ء معلوم ہوا۔انہوں نے اس عاجز کو ( یعنی ان کے بیٹے کو ) اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کو اطلاع کی۔حضور نے جمعہ میں آپ کا ذکر کیا اور نماز کے بعد جنازہ غائب پڑھایا۔مرحوم کی وصیت بھی تھی ، اس لئے آپ کا کتبہ بہشتی مقبرہ میں لگ گیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 12 صفحہ 279-280 روایت حضرت میاں شرافت احمد صاحب) اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کے درجات بلند فرماتا چلا جائے اور اس روح کو ہمیشہ ہم میں بھی اور آئندہ نسل میں بھی جاری رکھے۔اب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے چند اقتباسات پڑھتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں: میں ان مولویوں کو غلطی پر جانتا ہوں جو علوم جدیدہ کی تعلیم کے مخالف ہیں۔وہ دراصل اپنی غلطی اور کمزوری کو چھپانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ان کے ذہن میں یہ بات سمائی ہوئی ہے کہ علوم جدیدہ کی تحقیقات اسلام سے بدظن اور گمراہ کر دیتی ہے اور وہ یہ قرار دیئے بیٹھے ہیں کہ گویا عقل اور سائنس اسلام سے بالکل متضاد چیزیں ہیں۔چونکہ خود فلسفہ کی کمزوریوں کو ظاہر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔اس لئے اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لئے یہ بات تراشتے ہیں کہ علوم جدیدہ کا پڑھنا ہی جائز نہیں۔اُن کی روح فلسفہ سے کانپتی ہے اور نئی تحقیقات کے سامنے سجدہ کرتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول - صفحہ 68 - مطبوعہ لندن جم) پھر آپ نے فرمایا کہ ”مگر وہ سچا فلسفہ ان کو نہیں ملا جو الہام الہی سے پیدا ہوتا ہے جو قرآن کریم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔وہ ان کو اور صرف انہیں کو دیا جاتا ہے جو نہایت تذلل اور نیستی سے اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کے دروازے پر پھینک دیتے ہیں۔جن کے دل اور دماغ سے متکبرانہ خیالات کا تعفن نکل جاتا ہے اور جو اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے گڑ گڑا کر سچی عبودیت کا اقرار کرتے ہیں۔“ ( ملفوظات جلد اول۔صفحہ 69-68۔مطبوعہ لندن) پھر آپ نے فرمایا کہ پس ضرورت ہے کہ آجکل دین کی خدمت اور اعلائے کلمتہ اللہ کی غرض سے علوم جدیدہ حاصل کرو اور بڑے جدو جہد سے حاصل کرو۔لیکن مجھے یہ بھی تجربہ ہے جو بطور انتباہ میں بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ جو لوگ ان علوم ہی میں یکطرفہ پڑ گئے ( یعنی صرف وہیں پڑے رہے اور دین نہ سیکھا اور ایسے محو اور منہمک ہوئے کہ کسی اہل دل اور اہل ذکر کے پاس بیٹھنے کا ان کو موقعہ نہ ملا اور وہ خود جملہ یہ دس جلدوں والا ایڈیشن ہے