خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 163
خطبات مسرور جلد و هم 163 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2012ء ہوں۔جب میں نے حضور کو السلام علیکم کہا تو حضور نے جواب دیا وعلیکم السلام۔اور مجھ سے پوچھا کہ وہ شخص جو ہمیں دیوث کہتا ہے کہاں ہے؟ میں نے باہر کی طرف دیکھا تو محمد علی آرہا تھا۔میں نے عرض کیا کہ حضور وہ محمد علی حکیم ہے باہر آ رہا ہے۔حضور نے فرمایا کہ اُس کو کہ دو کہ ہم آپ سے ملاقات نہیں کرتے کیونکہ آپ دیوث ہیں۔اللہ تعالیٰ کا انتقام دیکھیں۔اس رؤیا کے بعد چند ہفتے گزرے تھے کہ اُس کی لڑکی ایک کلرک کے ساتھ بھاگ گئی اور گوجرانوالہ محکمہ پولیس کے خفیہ افسر نے اُس کو پکڑ لیا۔کلرک نے کہا یہ میری بیوی ہے۔لڑکی نے کہا یہ میرا ملازم ہے۔دونوں کے متضاد بیانات تھے۔پولیس کو شبہ ہو گیا۔گوجرانوالہ کے اسٹیشن پر اُن کو گاڑی سے اتار لیا۔ڈپٹی کمشنر کے پیش ہوئے۔وہاں لڑکی نے بیان دیا کہ میرا باپ دیوث ہے اور میری شادی نہیں کرتا۔(اب یہ حکیم صاحب کی بیٹی خود بیان دے رہی ہے )۔میں مجبوراً اس آدمی کے ساتھ ایک نوابزادے کے پاس جا رہی ہوں۔خیر اُس نے اپنے واقعات سنائے۔اُس ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ تمہارے باپ کی ہتک ہو گی اُس کے پاس چلی جاؤ مگر اس نے واپس جانے سے انکار کیا اور کہا باپ مجھے مارڈالے گا۔خیر ڈپٹی کمشنر نے کہا ہم انتظام کر دیتے ہیں اور لڑ کی کولاہور کے ڈپٹی کمشنر کے پاس بھیج دیا کہ لڑکی کے باپ کے حوالے کیا جائے مگر اُس سے ضمانت لی جائے کہ اسے کوئی تکلیف نہ دے۔چنانچہ ڈپٹی کمشنر نے کچہری میں حکیم صاحب کو طلب کیا۔جاتے ہی حکیم صاحب کو ڈانٹا اور کہا کہ تم بڑے دیوث ہو۔( دوسری دفعہ پھر ڈپٹی کمشنر نے وہی بات کہی۔اپنی لڑکی کی حفاظت نہیں کرتے اور تم بڑے بے شرم ہو ، جوان لڑکی کا رشتہ نہیں کرتے۔پانچ ہزار روپے کی ضمانت لاؤ تب لڑ کی تمہارے حوالے کی جائے گی۔اور اس طرح وہ بدلہ لیا۔پھر اس پر اس کا مزید عبرتناک انجام یہ ہوا کہ کچھ عرصے کے بعد مولوی صاحب شہر میں دیوث مشہور ہو گئے۔ہر ایک اُن کو دیوث کہنے لگا۔اور کچھ عرصے کے بعد وہی لڑکی پھر بھاگ گئی اور عیسائی ہو گئی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 9 صفحہ 207 تا 209 روایت حضرت منشی محبوب عالم صاحب) حضرت امیر خان صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ اول کی وفات پر جب میں نے سنا کہ چوہدری غلام احمد صاحب پیغامی ہو گئے ہیں تو میں وہاں پہنچا اور انہیں پیغامیوں کے حالات سے اطلاع دی۔الحمد للہ کہ انہوں نے بہت اثر لیا اور پیغامی خیالات سے توبہ کر لی اور یہاں قادیان میں تشریف لائے۔اسی طرح چو ہدری نعمت خان صاحب سب حج کو میں نے موضع کھیڑی میں تبلیغ کی اور آپ اس کے تھوڑے عرصے بعد احمدی ہو گئے۔پھر جب آپ 'اونہ میں تھے اور میں نے سنا کہ پیغامی خیالات رکھتے ย ہیں تو اُن سے میں ( نے ) خط و کتابت کی اور بہ عمل خود انہوں نے اپنے خیالات میں تبدیلی فرمائی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 6 صفحه 146-147 روایت حضرت امیر خان صاحب)