خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 155 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 155

خطبات مسرور جلد دہم 155 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 مارچ 2012ء گزار ہونا چاہئے اور حقیقی شکر گزاری یہی ہے کہ جہاں اُن کے لئے دعائیں کریں وہاں اپنا تعلق بھی جماعت سے مضبوط کریں اور اس پیغام کو آگے سے آگے پہنچاتے چلے جائیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔اس وقت آج بھی ایک افسوسناک اطلاع ہے۔ہمارے ایک بھائی کو نوابشاہ میں شہید کر دیا گیا۔إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔مکرم مقصود احمد صاحب ابن مکرم محمد ادریس صاحب جو پہلے تو کرونڈی میں آباد تھے لیکن پچھلے چھیں ستائیس سال سے دارالرحمت شرقی ربوہ میں رہائش پذیر تھے۔مقصود صاحب کے خاندان کا تعلق قادیان کے قریب گاؤں ”بھٹیاں گوت“ سے ہے۔ان کے خاندان میں احمدیت آپ کے دادا مولوی عبدالحق نور صاحب کی بیعت کے ذریعے سے آئی تھی۔1934ء میں انہوں نے بیعت کی تھی۔ان کے دادا کو میندارہ کا وسیع تجربہ تھا جس کی وجہ سے حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے شروع میں سندھ کی زمینوں کو آباد کر نے کے لئے اُنہیں بھجوایا تھا۔ان کے دادا ناصر آباد محمود آباد اور دوسری سٹیٹس میں بھی نگرانی پر مقرر رہے ہیں۔پھر 1942ء میں جماعت کی سٹیٹ سے نکل کر انہوں نے اپنی زمینیں لے لی تھیں اور خیر پور منتقل ہو گئے۔21 دسمبر 1966ء کو آپ کے دادا مکرم عبدالحق نور صاحب کو بھی شہید کر دیا گیا تھا۔اس وقت مقصود صاحب کی عمر بارہ سال کی تھی اور آپ اس شہادت کے عینی شاہد تھے۔پرانے شہداء کا جب ذکر ہورہا تھا تو جون 1999ء میں حضرت خلیفہ اُسیح الرابع نے اپنے خطبہ میں شہداء کی فہرست میں ان کے دادا کا بھی ذکر کیا تھا۔1983ء تک کرونڈی میں رہے۔اُس کے بعد پھر وہاں سے ربوہ شفٹ ہو گئے۔جب سے ربوہ میں شفٹ ہوئے ہیں اُس وقت سے ہومیو پیتھک کیوریٹو کمپنی جو راجہ نذیر صاحب کا ایک ادارہ ہے اُس میں کام کر رہے تھے۔اور آپ کے سپر د کمپنی کی طرف سے سندھ کا علاقہ تھا جہاں آپ ہر مہینے دورے پر ، دوائیوں کی فروخت کے لئے یا آرڈر لینے کے لئے سیلز مین کے طور پر جایا کرتے تھے۔کہتے ہیں گزشتہ ماہ 27 فروری سے سندھ کے دورے پر تھے اور 7 مارچ 2012ء کو شہادت کے دن صبح تقریباً گیارہ بجے نوابشاہ پہنچے تھے جہاں سہ پہر تقریباً ساڑھے تین بجے نوابشاہ کے معروف موہنی بازار میں دو نا معلوم موٹر سائیکل سواروں نے ان کو روکا اور ان پر فائز کر دیا جس سے ان کی شہادت ہو گئی - إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - پولیس لاش ہسپتال لے گئی۔وہاں جا کر پوسٹ مارٹم ہوا۔جیسا کہ ہم جانتے ہیں، نوابشاہ میں دس دن کے اندر یہ دوسری شہادت ہے۔مرحوم موصی بھی۔شہید مرحوم کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ مرحوم نے آج سے دو تین ماہ قبل اس بات کا ذکر کیا تھا کہ انہیں