خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 154 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 154

خطبات مسرور جلد دہم 154 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 مارچ 2012ء کے ارائیں تھے اور موضع سعد اللہ پور تحصیل پھالیہ ضلع گجرات کے باشندہ تھے وہ میرے ذریعہ ہی خدا کے فضل سے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے تھے۔ایسا ہی اُن کی برادری کے سب لوگ بھی بلکہ موضع سعد اللہ پور کے امام مسجد مولوی غوث محمد صاحب جو اہل حدیث فرقہ کے فرد تھے، وہ بھی خدا کے فضل سے میری تبلیغ کے ذریعہ احمدی ہوئے تھے۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 10 صفحہ 63-64 روایت حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی) تو مولویوں میں بھی سعید فطرت ہیں جو دین کو سمجھتے ہیں ، آجکل بھی ایسے بعض لوگ ہیں۔پاکستان میں بھی ہیں اور دوسری دنیا میں بھی جو باوجود مذہب کے معاملے میں بڑے سخت ہونے کے اور لوگوں کی سنی سنائی باتوں کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مخالفت کرنے کے باوجود جب اُن کو حقیقت کا علم ہوتا ہے، پڑھتے ہیں، سمجھتے ہیں تو پھر بیعت میں بھی شامل ہو جاتے ہیں۔حضرت میاں محمدعبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ ہمارے خاندان میں پہلے حاجی فضل الدین صاحب نے 1892ء میں قادیان جا کر بیعت کی تھی۔حاجی صاحب میرے چا زاد بھائی تھے۔انہوں نے میرے والد صاحب اور دیگر میرے بھائیوں کو 1903 ء تک تبلیغ کی۔میرے والد صاحب نے ایک رات خواب دیکھا کہ قادیان کی طرف سے ایک پورے قد کا چاند بہت خوشنما ( یعنی مکمل چاند جو تھا ) روشنی دے رہا ہے۔جس کی تعبیر میرے والد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت پر کی اور ہم سب نے اُسی دن بذریعہ خط بیعت کر لی۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 10 صفحہ 134 روایت میاں محمد عبد اللہ صاحب) حضرت مولوی محمد عبد اللہ صاحب بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ تبلیغ میں بیعت سے پہلے بھی کیا کرتا تھا اور بیعت کے بعد تو میں نے اس قدر تبلیغ کی کہ سینکڑوں لوگ میرے ذریعے سے جماعت میں داخل ہوئے۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 10 صفحہ 219 روایت مولوی محمد عبد اللہ صاحب ) یہ واقعات اور بھی کافی ہیں۔انشاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔اللہ تعالیٰ ان صحابہ کے درجات بلند فرمائے جنہوں نے بہت سوں کو زمانے کے امام کا پیغام پہنچایا اور پھر انہوں نے آگے تبلیغ کر کے اس پیغام کو آگے پہنچاتے چلے گئے اور یہ کام جاری رکھا۔آج اُن کی نسلیں، انہی کی محنت ،نیکیوں اور تقویٰ کے پھل کھا رہی ہیں۔پس اپنے بزرگوں کے لئے بھی دعائیں کریں جن کی نسلوں میں اُن صحابہ کے ذریعے سے احمدیت آئی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں تھے۔اور ہمیں اُن کا بہت زیادہ شکر