خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 153 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 153

خطبات مسرور جلد دہم 153 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 مارچ 2012ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بھی فرمایا ہوا ہے کہ اگر وہ کوئی برانہیں مناتے تو علی الاعلان پھر اس کا اظہار کر دیں۔اظہار کیوں نہیں کرتے۔اور پھر اگر کسی وجہ سے مجبوری نہیں ہے تو پھر بیعت میں بھی شامل ہونا چاہئے۔صرف یہ کہہ دینا کہ ہم برانہیں مناتے ، یہ کافی نہیں ہے۔حالات کے مطابق ہر فیصلہ ہوتا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 5 صفحہ 526 ایڈ یشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی بیان کرتے ہیں کہ میں نے بیعت کر لی۔حضرت اقدس کی کتابیں پڑھیں۔ایک جوش پیدا ہوا اور تبلیغ شروع کر دی۔اُن ایام میں میری تبلیغ کا طریق یہ تھا کہ جہاں چار پانچ آدمی اکٹھے بیٹھے دیکھتا، جاتے ہی السلام علیکم کہ کر کہتا کہ مبارک ہو۔لوگ متوجہ ہوکر پوچھتے کہ کیا بات ہے؟ میں کہتا کہ حضرت امام مہدی آگئے ہیں۔اس پر کوئی ہنسی اڑاتا۔کوئی محول کرتا۔کوئی مزید تفصیل سے پوچھتا۔غرضیکہ کسی نہ کسی رنگ میں بات شروع ہو جاتی اور میں تبلیغ کا موقعہ نکال لیتا۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 10 صفحہ 32 روایت حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی) تبلیغ کا موقع نکالنے کی بات ہے۔آجکل جماعتیں اس طرح ہی بہت ساری جگہوں پر جو لیف لٹنگ (Leafletting) کر رہی ہیں تو اس کی وجہ سے دنیا میں اُن سے لوگ سوال جواب بھی کرتے ہیں۔اور اُس سے بھی تبلیغ کے آگے موقع نکلنے چاہئیں۔صرف اتنا کافی نہیں ہے کہ کاغذ دے دیا کہ جماعت احمدیہ کا امن کا پیغام ہے اور بس فرض پورا ہو گیا۔بلکہ اُس رابطے کو ، اُس تعلق کو پھر آگے بھی جس حد تک بڑھایا جاسکتا ہے بڑھانا چاہئے۔اسی طرح جیسا کہ آجکل یہاں یو کے میں مساجد کے افتتاح ہورہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے تین مساجد کے افتتاح ہو چکے ہیں اور تین کے اور انشاء اللہ تعالیٰ اگلے ایک مہینے میں ہونے ہیں۔اب یو کے جماعت کو بھی اس طرف توجہ پیدا ہوئی ہے۔اس سے بھی تبلیغ کے رستے کھلنے چاہئیں۔رابطے پیدا ہونے چاہئیں اور زیادہ سے زیادہ تعلق وہاں کی مقامی جماعتوں کو اپنے ماحول میں پیدا کرنا چاہئے۔کیونکہ مساجد سے جہاں مخالفت ہوتی ہے وہاں تو جہ بھی پیدا ہوتی ہے اور ابھی تک جن مساجد کے افتتاح ہوئے ہیں اُن کی رپورٹس یہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پہلے جن لوگوں کے رابطے نہیں تھے، وہ بھی اب جماعت کے بارے میں معلومات لیتے ہیں اور جو معلومات لیں تو پھر ہمیں اُس سے بھر پور فائدہ اُٹھانا چاہئے۔پھر حضرت مولانا غلام رسول صاحب را جیکی بیان کرتے ہیں کہ ”میاں غلام محمد صاحب جو قوم