خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 142

خطبات مسرور جلد و هم 142 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 مارچ 2012ء پھر ایک جگہ آپ اپنی نثر میں تحریر میں فرماتے ہیں کہ : دنیا کے مذاہب پر اگر نظر کی جائے تو معلوم ہوگا کہ بجز اسلام ہر ایک مذہب اپنے اندر کوئی نہ کوئی غلطی رکھتا ہے۔اور یہ اس لئے نہیں کہ در حقیقت وہ تمام مذاہب ابتدا سے جھوٹے ہیں ( آجکل جو مذہبوں میں غلطی ہے فرمایا کہ اس لئے نہیں کہ شروع سے ہی وہ جھوٹے تھے ) ” بلکہ اس لئے کہ اسلام کے ظہور کے بعد خدا نے ان مذاہب کی تائید چھوڑ دی اور وہ ایسے باغ کی طرح ہو گئے جس کا کوئی باغبان نہیں اور جس کی آبپاشی اور صفائی کے لئے کوئی انتظام نہیں۔اس لئے رفتہ رفتہ اُس میں خرابیاں پیدا ہو گئیں۔تمام پھلدار درخت خشک ہو گئے اور اُن کی جگہ کانٹے اور خراب بوٹیاں پھیل گئیں۔اور روحانیت جو مذہب کی جڑ ہوتی ہے وہ بالکل جاتی رہی اور صرف خشک الفاظ ہاتھ میں رہ گئے۔“ (اسلام ( لیکچر سیالکوٹ ) روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 203) پھر آپ نے وضاحت سے فرمایا کہ اسلام کیونکہ آخری شریعت ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اسلام کے ساتھ ایسا نہیں کیا کہ اس کی تعلیم خشک ہو جائے۔ہر صدی میں مختلف جگہوں پر مختلف وقتوں میں ، اس باغ کو ہرا ر کھنے کے لئے اللہ تعالی نگران بھیجتا رہا اور اس زمانے میں آپ نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے اور میں آخری ہزار سال کا مجدد ہوں۔پس اسلام کے خوبصورت باغ کا خوبصورت حصہ بنے اور پھلدار درخت بننے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عاشق صادق کے ساتھ جڑ نا اب ہر مسلمان کا بھی فرض ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ سے زندہ تعلق اب اسی ذریعہ سے پیدا ہوسکتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی خوبصورت تعلیم کو نہ صرف ہندوستان میں بلکہ دوسرے ممالک میں بھی پہنچایا۔اسی طرح آپ نے اپنے حلقہ بیعت میں آنے والے اپنے صحابہ کے دلوں میں بھی یہ روح پھونکی کہ دنیا کو یہ پیغام دو کہ خدا کی طرف آئیں ، اُس سے تعلق جوڑیں اور یہ تعلق اب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کے ساتھ جڑنے سے ہی حقیقی رنگ میں جڑ سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنے والے غریب مزدور لوگ بھی تھے، زمیندار بھی تھے ، کسان بھی تھے، ان پڑھ دیہاتی بھی تھے، ملازم پیشہ بھی تھے ، کاروباری لوگ بھی تھے اور پڑھے لکھے لوگ بھی تھے اور ہر ایک نے اپنی اپنی استعداد کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پیغام کو سمجھا۔آپ کی صحبت سے فائدہ اُٹھایا اور اس حقیقی پیغام کو، حقیقی اسلام کو سمجھ کر دنیا میں پھیلانے کی کوشش بھی کی۔اپنے اپنے حلقہ میں پھیلانے کی کوشش بھی کی۔دوسرے مذاہب پر اسلام کی بالا دستی کا حقیقی ادراک حاصل کیا اور پھر اُن لوگوں میں شامل ہو گئے جو اللہ تعالیٰ