خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 133 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 133

خطبات مسرور جلد دہم 133 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 مارچ 2012ء گہرائی میں جایا کرتے تھے۔کہتے ہیں ) اس جھگڑے میں گیارہ بج گئے مگر میں نے نہ پڑھنا تھا نہ پڑھا۔شام کو دوسرے استاد کے پاس گیا۔اُس نے بھی کہا کہ ایک تجھے جنون ہوا ہے اور ایک مرزا کو۔( پھر اُس نے بھی یہی بات دہرائی کہ ایک تم یہ بات کر رہے ہو، اس کا مطلب پوچھ رہے ہو، دوسرا ایک اور شخص ہے یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا حوالہ دیا۔کہتے ہیں ) اس سے میرا دل اور مضبوط ہو گیا کہ میری بات کمزور نہیں ہے۔پھر تیسرے استاد مولوی عبدالوہاب صاحب کے پاس گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ تو بڑا قصہ ہے۔اس کا تو مدعی موجود ہے جو کہتا ہے کہ حضرت عیسیٰ فوت ہو گئے ہیں اور جس عیسی کی آمد کا لوگ انتظار کر رہے ہیں وہ میں ہوں۔میں نے کہا پہلی بات تو میری سمجھ میں آگئی ہے مگر دوسری کا ابھی پتہ نہیں لگا۔انہوں نے کہا کہ میں پنجاب میں گیا تھا۔بائیس دن وہاں رہا۔اُن کا ایک مرید مولانا نورالدین ہے۔حکمت میں تو اُس کا کوئی ثانی نہیں اور میں نے اُس کے دینی درسوں کو بھی سنا ہے۔بڑے بڑے مولوی اُسکے سامنے دم نہیں مار سکتے۔انہوں نے اپنی بیعت کا ذکر نہ کیا۔( گو یہ مولوی صاحب بیعت کر آئے تھے لیکن اس نوجوان کے سامنے بیعت کا ذکر نہیں کیا ) کیونکہ وہ مخالفت سے ڈرتے تھے۔مجھے کہنے لگے کہ اونچا مت بولو۔مولوی عبدالغفور صاحب سُن لیں گے۔( کوئی دوسرے غیر احمدی مولوی تھے جو وہاں بیٹھے ہوئے تھے۔میں نے کہا مجھے اس بات کی کوئی پرواہ نہیں۔میں صداقت کے اظہار سے کیسے رک سکتا ہوں۔خیر اسی طرح پڑھتے پڑھتے 1905 ء کا زمانہ آ گیا۔کہتے ہیں میں نے پڑھائی جاری رکھی۔سال 1905ء آگیا۔) حضرت صاحب دہلی تشریف لے گئے اور الف خان صاحب سیاہی والے کے وسیع مکان میں فروکش ہوئے۔ہزار ہا لوگ آپ کو دیکھنے کے لئے گئے۔میں بھی گیا۔میں مخالف مولویوں کے ساتھ گیا۔اُن میں طلباء زیادہ تھے اور ہمارے سرغنہ مولوی مشتاق علی تھے۔انہوں نے حضرت صاحب پر کچھ اعتراض کرنے شروع کئے جس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ آپ ٹھہر جائیں اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب سے کا غذ اور قلم دوات لے کر ایک مضمون لکھا اور وہ مولوی مشتاق علی صاحب کو دیا کہ آپ اُسے پڑھ لیں۔اگر کوئی لفظ سمجھ نہ آئے تو مجھ سے دریافت کر لیں اور ساتھ ہی اس کا جواب بھی لکھ لیں۔( حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے وہیں ایک چھوٹا سا مضمون لکھا، اُس غیر احمدی مولوی کو ہی دیا کہ اسے پڑھ لیں اور سمجھ نہ آئے تو مجھ سے پوچھ لیں اور ساتھ جو میں نے مضمون لکھا ہے اس کا جواب مجھے لکھ دیں۔اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُس غیر احمدی مولوی کو یہ کہا کہ) پہلے آپ میرا مضمون سنا دیں (خود ہی پڑھ کے ) اس کے بعد اس کا جواب ( جو آپ لکھیں گے وہ ) سنا دیں۔(تو)