خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 129 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 129

خطبات مسرور جلد دہم 129 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 مارچ 2012ء ابھی تک احمدی نہیں مگر مرزا صاحب کی یہ بات ضرور سچی ہے۔میں کبھی گوارا نہیں کر سکتا کہ محمد رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی جائے۔مولوی صاحب نے میرے منہ کے آگے ہاتھ رکھ دیا۔میں نے کہا مولوی صاحب! کیوں روکتے ہیں ؟ مولوی صاحب نے کہا کہ اگر آپ کا عقیدہ ہو گیا ہے کہ میسج مر گیا ہے تو اتنا جوش و خروش دکھانے کی کیا ضرورت ہے؟ ( ٹھیک ہے۔آپ نے مان لیا تو آرام سے چپ کر کے بیٹھے رہیں۔کہتے ہیں ) میں نے کہا مولوی صاحب ! مسجد سے نکلتے ہی میں منادی کرتا چلا جاؤں گا، (لوگوں کو بتا تا چلا جاؤں گا کہ اگر حضرت عیسیٰ آسمان پر ہے تو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی ہتک ہے۔یہ میری جان گوارا نہیں کر سکتی۔میں نے جاتے ہی اپنے والد صاحب کو سمجھایا اور میرا بڑا بھائی غلام حسین جو عارف والے کا امیر جماعت ہے، (اُس وقت احمدی نہیں تھے ) وہ دونوں (میری بات سن کر ) جل کر آگ بگولہ ہو گئے۔اور میرا نام دجال، ملعون وغیرہ رکھا۔( کہتے ہیں) مجھے یہ خیال آیا کہ کل مجھ پر مولویوں کا حملہ ہو گا۔میں نے رات کے وقت اس احمدی کو جس کو ہم نے مسجد سے روکا تھا، ایک نوکر کے ذریعہ بلایا (ابھی یہ احمدی نہیں ہوئے تھے لیکن اپنا عقیدہ بیان کر رہے ہیں۔کہتے ہیں میں نے جب عقیدہ بیان کیا تو پھر مجھے خیال آیا کہ والدین سے بھی اور بھائی سے بھی ڈانٹ ڈپٹ ہو چکی ہے، اب مولوی بھی میرے پیچھے پڑیں گے تو میں نے اُس احمدی کو بلوایا جس کو ہم نے اس وجہ سے مسجد سے نکالا تھا۔میں نے اُسے پوچھا کہ کیا مرزا صاحب نے وفات مسیح پر کوئی دلیل بھی دی ہے یا یونہی کہہ دیا ہے؟ اس نے کہا کہ تیس آیات پیش کی ہیں۔میں نے حیران ہو کر کہا کہ ہم دن رات قرآن پڑھتے ہیں اور ہمیں معلوم نہیں۔یہ کیا بات ہے؟ ایک ہی آیت ہمیں بتا دو۔اُس نے ساتویں سپارے کی آیت فَلَمَّا تَوَفَّيَتَنِي “ (المائدہ:118) بتادی۔میں نے کہا کہ اب میری تسلی ہو گئی۔اب کوئی مولوی میرا مقابلہ نہیں کر سکے گا۔فجر کے وقت مولوی غلام حسن صاحب اور مولوی فیض دین صاحب اور دو تین اور آدمی میرے بھائی کے ہمراہ آئے۔میں مسجد کے دروازے میں کھڑا تھا کہ یہ جا پہنچے۔مولوی غلام حسن نے کہا کہ مسیح کے آپ کیوں دشمن ہوئے ہیں؟ میں نے کہا مولوی صاحب ! میں نے کیا دشمنی کی؟ وہ کہنے لگے کہ آپ کا بھائی کہتا ہے کہ یہ مسیح کی موت کا قائل ہو گیا ہے۔( یعنی اس بھائی نے یہ شکایت کی تھی۔تو ) میں نے کہا مولوی صاحب! کیا کریں وہ تو خود اپنی موت کا اقرار کر رہا ہے اور آپ کی مثال مدعی ست اور گواہ چست کی ہے۔مولوی صاحب نے کہا۔( یہ ) کہاں لکھا (ہوا) ہے ( کہ مسیح نے اپنی وفات کا خود اقرار کیا ہے۔) میں نے کہا قرآن میں۔وہ کہنے لگے (کہ) کونسا قرآن؟ جو مرزا صاحب نے بنا دیا ؟ میں نے کہا مولوی صاحب ذرا ہوش سے بولیں۔خدا پر