خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 119 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 119

خطبات مسرور جلد دہم 119 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 فروری 2012 ء کے امام کو مان کر اسلام کے احکامات پر چلنے کے عہد کی تجدید کرتے ہیں، ہم میں سے کسی سے یہ توقع کی ہی نہیں جاسکتی کہ وہ مسجد میں عبادت کے لئے آئے ، اس مقصد کے لئے آئے جس کے لئے مسجد تعمیر کی گئی ہے اور پھر گناہوں اور زیادتیوں میں ملوث ہو جائے۔پس یہاں کے رہنے والے احمدیوں کو اس علاقے کے لوگوں کے ان تحفظات کو بھی دُور کرنا ہوگا۔مسجد کی تعمیر کے ساتھ جہاں تبلیغ کے راستے کھلتے ہیں وہاں مخالفتیں بھی تیز ہوتی ہیں۔مسلمانوں کی طرف سے مخالفت اس لئے ہوتی ہے کہ اُن کے علماء کی طرف سے احمدیت کی غلط تصویر پیش کی جاتی ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ احمدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خاتمیت نبوت پر ڈاکہ مارنے والے ہیں۔جبکہ احمدی ہمیشہ یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام خاتم النبین پر سب سے بڑھ کر یقین کرنے والے ہیں اور یہ فہم و ادراک ہمیں آپ کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دیا ہے۔بہر حال مسلمانوں کی بھی مخالفت کا ہمیں سامنا ہوتا ہے۔اسی طرح غیر مسلم مقامی لوگ اسلام کی اپنے ذہن میں بنائی ہوئی غلط تصویر کی وجہ سے فکر مند ہو کر ہم سے زیادتی کرتے ہیں۔کچھ ویسے ہی Racist لوگ ہیں جو غیر قوموں کے، غیر ملکیوں کے خلاف ہیں، اُن کی طرف سے بھی زیادتی ہوتی ہے۔تو ہم تو ہر طرف سے زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔پرسوں رات بھی یہاں مسجد کی دیوار پر جو غلط الفاظ لکھے گئے یا پینٹ وغیرہ پھینک کر گند کرنے کی کوشش کی گئی ، یہ دل میں بٹھائی گئی اسی دشمنی کا نتیجہ ہے جو اسلام کے خلاف غیر مسلموں میں ہے۔پس ہم نے ہر قسم کے لوگوں کے شکوک وشبہات دور کرنے ہیں اور وہ اُسی وقت ہو سکتے ہیں جب ہماری عبادتیں خالصہ للہ ہوں گی۔جب ہم مسجد کی تعمیر کے مقصد کا حق ادا کرنے والے ہوں گے۔اسی طرح یہ بات بھی ہمیشہ یادرکھنی چاہئے کہ جماعت کی خوبصورتی اسی میں ہے کہ اس میں آپس میں بھی نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے بڑھ کر اظہار پایا جائے۔آپس کے تعلقات کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اس طرح بنایا جائے کہ ہر دیکھنے والا کہے کہ یہ آپس کی محبت اور بھائی چارہ اس جماعت کا ایک خاص وصف اور خاصہ ہے۔نماز باجماعت کے لئے مسجد میں آنے کے حکم کی ایک اہمیت یہ بھی ہے کہ ایک جماعت کا نظارہ ت یہی ہے کہ ایک جماعت ں ہو۔سب ایک وجود بن جائیں اور آپس کی محبتیں بڑھیں اور رنجشیں دور ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ ہمیں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :