خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 118 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 118

خطبات مسرور جلد دہم 118 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 فروری 2012 ء نے قرآن کریم میں ہمیں حکم دیا ہے۔نیکیوں میں بڑھنے والے ہوں۔تقویٰ میں ترقی کرنے والے ہوں۔گناہوں اور زیادتی سے بچنے والے ہوں اور اس کے خلاف جہاد کرنے والے ہوں۔صرف بچنا ہی کام نہیں ہے بلکہ اس کے خلاف جہاد بھی کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں سورۃ المائدہ میں ایک جگہ فرمایا ہے کہ: ط وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ أَنْ صَلُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أَنْ تَعْتَدُوا وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (المائدة:3) کہ تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس وجہ سے کہ انہوں نے تمہیں مسجد حرام سے روکا تھا اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم زیادتی کرو۔اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے تعاون کرو۔اور گناہوں اور زیادتی کے کاموں میں تعاون نہ کرو۔اللہ سے ڈرو یقینا اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔آج اسلام پر یہ اعتراض ہوتا ہے کہ یہ شدت پسند مذہب ہے اور جنگ کو پسند کرنے والا مذہب ہے اور یہ کہ اسلام نعوذ باللہ طاقت سے اور تلوار کے زور سے پھیلا ہے اور اسلام نے ہر مذہب کے خلاف ، جو بھی اسلام کے مخالف مذہب تھا یا دوسرے مذاہب تھے، ان سب کے خلاف اسلام نے تلوار اٹھائی ہے۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسلام پر اس اعتراض کا بھی رڈ فرمایا ہے۔آیت کے اس حصے میں کہ جو اللہ تعالیٰ کے خالص بندے ہیں ، جن کو اللہ تعالیٰ کی رضا مطلوب ہے، جن کی عبادتیں خدا تعالیٰ کی خاطر ہوتی ہیں، اُن کے تو دشمنوں سے یہ سلوک ہونے چاہئیں کہ کسی بھی طرح اُن پر زیادتی نہ ہو۔جنہوں نے زیادتی کی ہے، اُن کا جواب بھی زیادتی سے نہیں دینا۔پس ایک مسلمان، وہ حقیقی مومن جو اللہ تعالیٰ کی رضا چاہتا ہے، نیکی اور تقویٰ کے معاملات میں اپنوں اور غیروں میں ہر ایک سے بھر پور تعاون کرنے کے لئے ہر وقت تیار ہے۔اور گناہوں اور زیادتی کے کاموں سے بیزار ہے۔اور کبھی ایسے کاموں میں تعاون نہیں کر سکتا کیونکہ یہ تقویٰ کے خلاف ہے۔یہ اپنی عبادتوں کو ضائع کر دینے کے مترادف ہے۔جو نمازیں نیکی کے کاموں میں روک بن رہی ہوں ، زیادتی کے کاموں میں مددگار ہوں، تقویٰ سے عاری ہوں وہ صرف دکھاوے کی نمازیں ہیں۔اُن نمازوں اور عبادتوں کا اللہ تعالیٰ کی نظر میں کوئی مقام نہیں ہے، کوئی حیثیت نہیں ہے۔اور ایسی نمازیں پڑھنے والوں کے بارے میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّین کہ ایسے نمازیوں کے لئے ہلاکت ہے۔ہم جو زمانے