خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 96 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 96

خطبات مسرور جلد دہم 96 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 فروری 2012 ء خوش دلی سے اُن کی مہمان نوازی کیا کرتی تھیں۔1974 ء کے ہنگامے میں بچے اور عورتیں گھر میں تھے، کوئی مرد نہیں تھا تو یہ ساری ساری رات اپنی گھر کی شاہ نشین پر بیٹھ کر گھر میں جو ہتھیار موجود تھا اُس کے ساتھ پہرہ دیتی تھیں اور پھر جماعت کی غیرت، دین کی غیرت کا جذ بہ بھی ان میں بڑا تھا۔اسی فسادوں میں لوگوں نے مشورہ دیا کہ ان کے گھر کے باہر احمد یہ لائبریری لکھا ہوا ہے اُس بینر کو ، بورڈ کو اتار دیں جس پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات بھی تحریر تھے تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ اسی طرح لگا رہے گا، ہم کسی سے ڈر کر اپنے ہاتھوں سے اُسے نہیں اُتاریں گے۔اسی طرح لجنہ کی صدر اور سیکرٹری لجنہ کے طور پر انہوں نے 1947ء سے 75 ء تک توفیق پائی۔غیر احمدی بچوں اور احمدی بچوں کو قرآنِ کریم پڑھایا کرتی تھیں۔نظامِ جماعت، نظام خلافت سے وابستہ رہنے کی خاص طور پر بہت تلقین کرتی تھیں۔ان کے تین بیٹے ، اور دو بیٹیاں ہیں۔اور ایک بیٹے ان کے ہمارے واقف زندگی مبارک احمد ظفر صاحب ہیں جو یہاں لندن میں ایڈیشنل وکیل المال ہیں اور دوسرے مبشر احمد ظفر صاحب بھی واقف زندگی ہیں انہوں نے سروس کے بعد وقف کیا ہے، اللہ تعالیٰ ان سب کو صبر اور حوصلہ دے اور مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔ابھی جیسا کہ میں نے کہا کہ نمازوں کے بعد ان کا جنازہ ادا کیا جائے گا۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 2 مارچ تا 8 مارچ 2012 ، جلد 19 شماره 9 صفحہ 5 تا 8 )