خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 532
خطبات مسرور جلد دہم 532 خطبه جمعه فرموده مورخه 31 اگست 2012 ء اور ہونا چاہئے لیکن جلسہ کے دنوں میں مزید نکھر کر اس کو سامنے آنا چاہئے۔جب میں یہ نصیحت کر رہا ہوں تو ربوہ کے جلسوں کی تصویر بھی سامنے گھوم جاتی ہے۔جب وہاں یہ جلسے ہوتے تھے اور ایک دو جمعہ پہلے خلیفہ وقت کی طرف سے اس طرح نصیحت کی جاتی تھی۔اور ربوہ کا رہنے والا ہر احمدی چاہیے اس نے خدمت کے لئے اپنا نام پیش کیا ہے یا نہیں کیا، ان نصائح پر عمل کرتا تھا اور بھر پور کوششیں ہوتی تھیں اور تیاریاں ہو رہی ہوتی تھیں۔لیکن بہر حال اب حالات کی وجہ سے وہاں جلسے نہیں ہوتے۔اُن احمدیوں کو ، ربوہ کے احمدیوں کو اور پاکستان کے احمدیوں کو بھی دعاؤں میں یادرکھیں کہ اللہ تعالیٰ اُن کی کمیاں بھی پوری کرے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ انگلستان کی جماعت ہر سال جلسہ پر مہمان نوازی کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ہر کارکن اس کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ یو کے کی جماعت کو جلسہ سالانہ کے انتظامات سنبھالنے کی طاقت اور استطاعت نہیں ہے اور حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہجرت کے شروع کے چند سالوں تک اس نظام کو چلانے کے لئے مرکز سے مدد لی جاتی تھی۔وہاں سے بعض عہدیداران افسران آتے تھے جو آپ لوگوں کی مدد کرتے تھے۔لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے افسران بھی اور کارکنان بھی تربیت یافتہ ہیں اور احسن رنگ میں کام سرانجام دینے والے ہیں۔اس لحاظ سے یہ جو کمی تھی وہ تو پوری ہو چکی ہے لیکن اس کمی کی دوری کی وجہ سے اور بہتری کی وجہ سے اور مہارت حاصل کرنے کی وجہ سے ہر کارکن میں اور ہر عہدیدار میں مزید عاجزی پیدا ہونی چاہئے۔پس اس کی طرف ہمیشہ توجہ رکھیں۔اللہ کے فضل سے افسر جلسہ سالانہ کی طرف سے انتظامات کی جو روزانہ رپورٹ آتی ہے، اُس سے پتہ لگتا ہے کہ بڑی گہرائی میں جا کر ماشاء اللہ ہر چیز کا خیال رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کام ہو رہا ہے۔اللہ تعالیٰ سب کارکنوں کو ، مردوں، عورتوں اور بچوں کو بھی توفیق عطا فرمائے کہ وہ احسن رنگ میں اپنی ڈیوٹیاں ادا کرنے والے ہوں۔ایک بات آج یہاں یہ بھی میں کہنا چاہتا ہوں، جیسا کہ میں نے کہا کہ سیکیورٹی کی طرف آجکل حالات کی وجہ سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور یہ انتہائی اہم چیز ہے، اس میں کسی قسم کی کمی نہیں ہو سکتی نہ کمپرومائز (Compromise) ہو سکتا ہے، نہ ہونا چاہئے۔لیکن ساتھ ہی جو جلسہ میں شامل ہونے کے لئے آتا ہے اس کے جذبات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے۔کارکنوں کو جوسیکیورٹی کارکن ہیں قانون تو بہر حال ہاتھ میں نہیں لینا۔جب کوئی ایسا معاملہ ہو تو اس کو حکمت سے سنبھالنا ہے۔اس ضمن میں اُن احمدیوں کو جو اپنے ساتھ مہمان لاتے ہیں یا لانا چاہتے ہیں، یا انتظام کرواتے ہیں، میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جن مہمانوں کو لانا ہے اُن کے بارے میں پہلے بتا دینا چاہئے اور انتظامیہ سے معاملات طے کر لینے چاہئیں