خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 336 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 336

خطبات مسرور جلد دہم 336 22 خطبه جمعه فرموده مورخہ یکم جون 2012ء خطبہ جمع سید نا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفہ امسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ یکم جون 2012ء بمطابق یکم احسان 1391 ہجری شمسی بمقام کا لسروئے(Karlsruhe)۔جرمنی تشہد وتعوذ اورسورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: الحمد للہ آج جماعت احمد یہ جرمنی کا جلسہ سالانہ شروع ہورہا ہے۔اس سال جلسے کی انتظامیہ نے گزشتہ سال کی کمیوں کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ بہتری پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔اس میں سب سے پہلے تو آواز تھی۔آج پتہ لگے گا کہ اس میں کس حد تک بہتری ہوئی ہے؟ کیونکہ گزشتہ سال اس کا لسروئے میں اس ہال میں پہلا جلسہ تھا۔اس لئے ظاہر ہے کہ بعض مشکلات یا کمیاں جو کہ نئی جگہ میں پیدا ہوتی ہیں، ہوئیں اور یہ کوئی ایسی بات نہیں جس پر انتظامیہ پر بہت زیادہ انگلیاں اُٹھائی جائیں یا اعتراض کیا جائے۔ہاں ایک صورت میں انتظامیہ قابلِ اعتراض ہو سکتی تھی کہ اگر وہ اپنی غلطیوں اور کمیوں کی طرف توجہ نہ دیتی اور اصلاح کی کوشش نہ کرتی۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا انتظامیہ نے اپنی کمزوریوں کو سامنے رکھتے ہوئے بعض کمیوں اور کمزوریوں کو دور کرنے کی کوشش کی ہے۔اسی طرح گزشتہ سال بعض غلط اندازوں اور نئی جگہ کی وجہ سے جو زیادہ اخراجات ہو گئے تھے، اُن میں بھی کمی کی کوشش کی ہے۔لیکن ابھی بھی یقیناً اصلاح اور بہتری کی گنجائش موجود ہے جس پر انتظامیہ کو نظر رکھنی چاہئے کہ ترقی کرنے والی قو میں بعض دفعہ اپنے تجربات سے اور بعض دفعہ دوسروں کے تجربات سے فائدہ اُٹھا کر آگے بڑھتی ہیں اور ترقی کرتی ہیں۔اور ہر اچھا مشورہ اور ہر اچھی چیز اپنانے کی کوشش کرتی ہیں۔اور یہی بات ہمیں ہمارے آقا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتائی ہے کہ ہر ا چھی اور حکمت کی بات مومن کی گمشدہ میراث ہے۔جہاں سے بھی یہ ملے، اسے لے لو۔(سنن الترمذی کتاب العلم باب ما جاء في فضل الفقه على العبادة حديث : 2687) کہ اسی میں روحانی اور مادی ترقی کا راز مضمر ہے۔گزشتہ سال جب میں جرمنی آیا تو میں نے یہی