خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 156 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 156

خطبات مسرور جلد دہم 156 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 مارچ 2012ء دھمکیاں مل رہی ہیں۔نیز وہ ایک جگہ ہندو ڈاکٹر کی دکان پر دوائیوں کی سپلائی کے لئے جاتے تھے تو انتہا پسندوں نے اُس ہندو ڈاکٹرکو بھی دھمکی دی تھی کہ اگر اب یہ مرزائی تمہاری دکان پر آیا تو تمہیں بھی اور اس مرزائی کو بھی ہم مار دیں گے۔پھر ان کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ شہید مرحوم اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔نماز کے پابند، با قاعدگی سے نوافل ادا کرنے والے، باجماعت نماز ادا کرنے والے، اسی طرح مالی قربانی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔اپنی اہلیہ کا چندہ بھی اس سال خودا دا کیا اور دورے پر جانے سے پہلے اپنا چندہ بھی مکمل ادا کر کے دورے پر گئے تھے۔دعوت الی اللہ کا شوق آپ کو اپنے دادا کی طرف سے ورثہ میں ملا تھا۔سفر کے دوران میں بھی، چاہے چند دن کے لئے جاتے ہوں، جماعتی لٹریچر ہمراہ رکھتے تھے اور تقسیم کرتے اور فعال تبلیغ کرتے تھے۔اور اسی تبلیغ کی وجہ سے یقیناً وہاں دشمنی بھی پیدا ہوئی ہوگی۔بازار میں ان کا تعارف ایک احمدی کی حیثیت سے تھا اور جب یہ تعارف ہو گیا تو اس بہانے پھر آپ لوگوں کو لٹریچر وغیرہ بھی دیتے تھے۔انتہائی ملنسار اور محبت کرنے والے اور صفائی پسند انسان تھے۔خدمت خلق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے تھے۔ضرورتمندوں کو مفت ادویات دیا کرتے تھے۔خلافت سے بے انتہا تعلق تھا۔اسی طرح قرآن کریم سے بھی آپ کو خاص عشق تھا۔ان کی اہلیہ مزید بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے مکرم مقصود احمد صاحب کو کہا کہ کیا ہم بھی شہداء کی فیملی میں شمار ہو سکتے ہیں؟ تو جوابا آپ نے کہا کہ کیوں نہیں۔اگر اللہ تعالیٰ منتخب کر لے تو ہم بھی شامل ہو سکتے ہیں۔پیچھے ان کی اہلیہ امتہ الرشید شوکت صاحبہ ہیں۔اس کے علاوہ ان کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔بیٹے ان کے یہیں مانچسٹر میں رہتے ہیں اور غیر شادی شدہ ہیں۔بیٹیوں میں سے ایک شادی شدہ امریکہ میں ہے اور ایک وہیں ربوہ میں ہیں اور ہمارے ایک سکول میں ٹیچر ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان سب لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔دشمنوں کی پکڑ کے جلد سامان فرمائے۔ایک دوسرا جنازہ جوابھی جمعہ کی نماز کے بعد پڑھاؤں گا ہاجرہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم مستری محمدحسین صاحب درویش مرحوم قادیان کا ہے۔یہ چار پانچ مارچ کی درمیانی رات کو اناسی (79) سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔إِنَّا لِلہ و انا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔آپ مکرم منشی عبدالرحیم صاحب فانی آف امروہ کی بیٹی تھیں جو قادیان میں رہائش کی خاطر ہجرت کر کے 1950ء میں قادیان آگئے تھے۔مرحومہ کی شادی 1951ء میں ہوئی اور آپ نے اپنے شوہر کے ساتھ عرصہ درویشی نہایت صبر و شکر کے ساتھ گزارا۔ان کے دس بچے تھے اور کثیر العیال