خطبات محمود (جلد 9) — Page 88
88 دے کہ تمہارے حق میں روزہ اچھا نہیں اور تم خطرے میں پڑ جاؤ گے تب بھی وہ روزہ ترک نہیں کریں گے۔حتی کہ بیماری میں بھی روزہ رکھیں گے۔پھر کئی ہیں جو چھوٹے بچوں سے بھی روزہ رکھواتے ہیں۔حالانکہ ہر ایک فرض اور حکم کے لئے الگ الگ حدیں اور الگ الگ وقت ہوتا ہے۔میرے نزدیک بعض احکام کا زمانہ چار سال کی عمر سے شروع ہو جاتا ہے۔اور بعض ایسے ہیں جن کا زمانہ سات سال سے بارہ سال تک ہے۔اور بعض ایسے ہیں جن کا زمانہ پندرہ یا اٹھارہ سال کی عمر سے شروع ہوتا ہے۔میرے نزدیک روزوں کا حکم پندرہ سال سے اٹھارہ سال تک کی عمر کے بچے پر عائد ہوتا ہے اور یہی بلوغت کی حد ہے۔میرے نزدیک اس سے پہلے بچوں سے روزے رکھوانا ان کی صحت پر بہت برا اثر ڈالتا ہے۔کیونکہ وہ زمانہ ان کے لئے ایسا ہوتا ہے جس میں وہ طاقت اور قوت حاصل کر رہے ہوتے ہیں۔پس جس زمانہ میں کہ وہ طاقت اور قوت کے ذخیرہ کو جمع کر رہے ہوتے ہیں اس وقت ان کی طاقت کو دبانا اور بڑھنے نہ دینا ان کے لئے سخت مضر ہے۔دیکھو آئیل کے انجن یا دوسرے انجنوں کی زائد سٹیم چھوڑی جاتی ہے یہ کبھی نہیں کیا جاتا کہ جس وقت کہ سٹیم انجن میں تیار ہو رہی ہو اور کافی مقدار تک نہ پہنچی ہو اس وقت نکال دی جائے۔دریا کو بند لگا کر دوسری طرف نہر کے ذریعے پانی کا رخ تبھی بدلا جاتا ہے جب کہ دریا میں پانی زیادہ ہو۔لیکن اگر دریا میں پانی کافی نہ ہو تو پھر اس سے پانی نہیں نکالا جاتا پس جس زمانہ میں بچہ طاقت پیدا کر رہا ہو اس کو روزہ نہ رکھوانا چاہیے۔تاوقتیکہ اس کی عمر پندرہ سال کی نہ ہو جائے۔کیونکہ اس سے پہلے بچہ پر روزہ فرض نہیں ہوتا۔تو نہ صرف یہ کہ اس عمر میں بچوں سے روزے نہ رکھوائیں۔بلکہ کوشش کرنی چاہیے کہ وہ روزے نہ رکھیں۔کیونکہ بچوں کو خود بھی شوق ہوتا ہے کہ روزہ رکھیں۔بارہ سال سے کم عمر کے بچے سے روزہ رکھوانا تو میرے نزدیک جرم ہے اور بارہ سال سے ۱۵ سال کی عمر کے بچے کو اگر کوئی روزہ رکھواتا ہے تو غلطی کرتا ہے۔پندرہ سال کی عمر سے روزہ رکھنے کی عادت ڈالنی چاہیے اور اٹھارہ سال کی عمر میں روزے فرض سمجھے جانے چاہیں۔مجھے یاد ہے جب ہم چھوٹے تھے ہمیں بھی روزہ رکھنے کا شوق ہو تا تھا۔مگر حضرت مسیح موعود ہمیں روزہ نہیں رکھنے دیتے تھے۔اور بجائے اس کے کہ ہمیں روزہ رکھنے کے متعلق کسی قسم کی تحریک کرنا پسند کریں ہمیشہ ہم پر روزہ کا رعب ڈالتے تھے۔تو بچوں کی صحت کو قائم رکھنے اور ان کی قوت کو بڑھانے کے لئے روزہ رکھنے سے انہیں روکنا چاہیے۔اس کے بعد جب ان کا وہ زمانہ آجائے جب وہ اپنی قوت کو پہنچ جائیں جو پندرہ سال کی عمر کا زمانہ ہے۔تو پھر ان سے روزے