خطبات محمود (جلد 9) — Page 72
72 ہیں۔مجھے اپنے بچپن کی ایک مثال یاد ہے۔اس وقت تو میری حیرت کی کوئی انتہا نہیں رہی تھی اور میں بڑا تعجب کرتا تھا اور بہت سوچتا تھا مگر کچھ سمجھ نہیں آتی تھی۔آخر خدا کے فضل سے وہ بات حل ہو گئی اور میں سمجھ گیا کہ اس کے اندر کیا حقیقت تھی۔وہ واقعہ یہ ہے کہ مجھے بچپن میں ہوائی بندوق کے ساتھ چھوٹے چھوٹے پرندوں کے شکار کا بہت شوق تھا۔ایک دفعہ میں بندوق لے کر ایک گاؤں کی طرف گیا جس کا نام شاید ناتھ پورہے۔ایک دو اور لڑکے بھی میرے ساتھ تھے۔جب میں وہاں پہنچا چند نوجوان سکھ اس گاؤں کے ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے آؤ ہم تم کو شکار بتلاتے ہیں۔چنانچہ وہ ہمیں گاؤں کے قریب لے گئے اور خود انہوں نے ہمیں شکار جتایا اور جگہ بہ جگہ ہمارے ساتھ پھرتے رہے۔اور جس طرح ہم اس شکار میں لذت محسوس کر رہے تھے اسی طرح وہ بھی لذت محسوس کر رہے تھے۔اور جس طرح ہم شوق سے شکار کی تلاش میں پھر رہے تھے ہمارے ساتھ وہ بھی اسی طرح شوق کے ساتھ پھر رہے تھے۔کہ ایک جگہ ایک درخت پر فاختہ نظر آئی۔میں نے نشانہ لگا کر بندوق چلائی اور وہ گر گئی۔اس سے بھی جس طرح ہم نے لذت اور خوشی محسوس کی اسی طرح انہوں نے خوشی کا اظہار کیا کہ اتنے میں گاؤں کی ایک بڑھیا وہاں سے گزری۔اس نے جو فاختہ کو تڑپتے ہوئے دیکھا تو دیکھتے ہی شور مچانا شروع کر دیا اور ان نوجوان سکھوں سے کہا تم کو شرم نہیں آتی۔تم ایسے بے غیرت ہو گئے ہو کہ لوگ دوسرے گاؤں سے آکر تمہارے گاؤں میں جیو ہتیا کرتے ہیں اور تم روکتے نہیں۔میں نے دیکھا وہ لڑکے باوجود اس کے کہ بڑے شوق سے ہمارے ساتھ شکار میں حصہ لے رہے تھے اور ہماری طرح ہی شکار میں لذت حاصل کر رہے تھے لیکن جونہی انہوں نے اس بڑھیا کی بات کو سنا ان کے چہرے بدل گئے۔اور ہمیں کہنے لگے۔کیوں جی کیوں تم یہاں شکار کرتے ہو ہم نہیں کرنے دیں گے۔میرے لئے اس وقت ان کا یہ کہنا نہایت ہی حیرت انگیز تھا کہ یہ کیا بات ہے۔ابھی تو یہ خود ہمیں بلا کر لائے ہیں اور بڑے شوق کے ساتھ شکار کی تلاش میں ہمارے ساتھ پھرتے رہے ہیں اور جس طرح ہم خوشی اور لذت محسوس کر رہے تھے۔اسی طرح ان کو بھی ہمارے شکار کرنے میں خوشی اور لذت محسوس ہو رہی تھی اور اب یک دم ہی یہ ایسے بدل گئے ہیں کہ ان کی پہلی حالت کا پتہ ہی نہیں لگتا۔بلکہ ان کے چہروں کا رنگ بھی بدل گیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا تھا کہ ان کے اندر اس وقت حقیقی جوش پیدا ہو گیا تھا نہ کہ بناوٹ سے وہ ایسا کہنے لگے۔یہ جوش پہلے ان کے اندر بالکل نہ تھا کیونکہ ہماری طرح ہی وہ بھی شکار میں لذت