خطبات محمود (جلد 9) — Page 47
47 آسکیں۔مگر جو کچھ ان سے ہو سکتا ہے اس سے باز نہیں رہتے۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ مالی رنگ میں ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں۔مثلاً اگر کوئی احمدی دوکاندار ہے تو سودا وغیرہ اس سے لینا بند کر دیں گے۔یا اگر احمدی کہیں ملازم ہے تو کوشش کر کے اس کو نکال دیں گے اور دوسرے کو وہاں نوکر کرا دیں گے۔یا احمدی کی ترقی بند کرا دیں گے۔یا اگر شادی شدہ ہے تو اس کی بیوی کو گھر میں روک لیں گے اور اس کے زیورات پر قبضہ کر لیں گے۔اگر وہ کوئی اور شادی کرے گا تو پھر روپیہ اسے خرچ کرنا پڑے گا۔غرض ہندوستان کے دشمنوں کے مظالم کا اثر زیادہ تر ہماری جماعت کی مالی حالت پر ہی پڑتا ہے۔ان کی طرف سے اور مظالم بھی کئے جاتے ہیں مگر ان کا بڑا حصہ وہی ہے۔کہ جس سے ہماری جماعت کو مالی نقصان پہنچتا ہے۔پس ایسی کمزور اور مظلوم جماعت کا دینی خدمات اور اعلاء کلمتہ اللہ کے لئے اس فراخدلی سے اپنے مالوں کو قربان کرنا بہت بڑی اہمیت رکھتا ہے۔اور پھر اس کے ساتھ جو اخلاص ہماری جماعت کو دیا گیا ہے اور جس کا نمونہ ہر موقع پر دیکھا گیا ہے وہ بھی خدا کا خاص عطیہ ہے۔جب کبھی بھی چندے کی تحریک کی جاتی ہے۔وہ جس ارادہ اور نیت سے کی جاتی ہے اور اس میں جتنی کوشش اور سعی کی جاتی ہے اس کا جواب بھی ویسا ملتا ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ پچھلی دفعہ جب ایک ایسی ہی تحریک کی گئی تو مجھے خیال آیا تھا کہ کہیں جماعت پر یہ چندہ بوجھ نہ ہو۔اس وجہ سے میں نے لوگوں کی کمزوری کا خیال رکھا۔آخر جس طرح اس تحریک میں لوگوں کا خیال رکھا گیا ویسے ہی وہ تحریک بھی لڑکھڑاتی ہوئی نکلی۔لیکن اس دفعہ بہت سے خرچ کے بعد اور پھر ایسے وقت میں جب کہ غلہ بہت گراں ہو گیا ہے۔آٹا اس وقت کی نسبت قریب نصف کے ہو گیا ہے۔گویا خرچ آگے سے تین گنا زیادہ بڑھ گئے ہیں۔اس وجہ سے یہ خیال ہو سکتا تھا کہ یہ تحریک جماعت پر زیادہ بوجھ ہو گی۔مگر جس قدر زیادہ زور کے ساتھ اس تحریک کو پیش کیا گیا اسی قدر زیادہ زور اور اخلاص کے ساتھ جماعت نے اس کا جواب بھی دیا ہے۔پچھلے سال کی تحریک میں تو جتنا بھروسہ کیا گیا تھا وہ جماعت کے اخلاص پر کیا گیا تھا۔اگرچہ اخلاص بھی جماعت میں خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔لیکن اب کے جو تحریک میں نے کی ہے اس کے آخری حصہ میں میں نے خدا تعالیٰ سے دعا بھی کی ہے کہ جو اس تحریک میں حصہ لیں اور جو اس تحریک کو کامیاب بنانے کی کوشش اور سعی کریں ان پر اپنے خاص فضل اور برکتیں نازل فرمائے اور اس دعا کے نتیج میں میں ہر نماز میں بالالتزام دعا کرتا ہوں۔اور میں امید رکھتا ہوں کہ جو لوگ اس تحریک میں حصہ لیں گے اور اس کو زیادہ سے زیادہ کامیاب بنانے کی کوشش