خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 45

45 ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان آرہا تھا۔تو ایک پیر صاحب بھی میرے ساتھ گاڑی پر سوار ہوئے۔وہ امرتسر جا رہے تھے۔ان کو مجھ سے کچھ کام تھا۔اس لئے وہ مجھے خوش کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے کشمش کی اور مجھے بھی کھانے کو کہا۔میں یوں بھی حضرت مسیح موعود کے ایک بلند ترین دشمن کے ساتھ کھانا پسند نہ کرتا۔مگر اس وقت میرے پاس ایک معقول بہانہ بھی تھا کہ مجھے نزلہ تھا۔اس لئے میں نے انکار کر دیا۔تو وہ مجھے اپنی علمیت بتانے لگے اور کہنے لگے کہ جب تک خدا کی مرضی نہ ہو کوئی کام نہیں ہوتا۔آپ بے شک کھالیں کوئی حرج نہیں۔میں نے جواب دیا۔پیر صاحب آپ نے امرتسر آنا تھا تو یہ ٹکٹ خریدنے کی اور گاڑی پر چڑہنے کی تکلیف کیوں گوارا کی۔خدا کی مرضی ہوتی تو آپ خود ہی پہنچ جاتے۔کہنے لگے کچھ اسباب بھی ہوتے ہیں۔میں نے کہا بس یہی تو میں کہتا تھا کہ کشمش میں کھٹاس ہوتی ہے اور اس لئے وہ میرے لئے نزلہ میں مضر ہو گی۔پس ہماری جماعت کے لوگوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ دنیا میں کوئی کام آپ ہی نہیں ہو جایا کرتا۔اس کے لئے تدابر اور سامانوں کی ضرورت ہوتی ہے۔پس ہمارا فرض ہے کہ ہم بار بار تبلیغ کریں۔دیکھو لوہار جندرا (تالا) توڑتے وقت ایک ہی چوٹ مار کر بیٹھ نہیں رہتا۔بلکہ پے درپے چوٹیں لگاتا ہے۔آخر جندرا ٹوٹ جاتا ہے۔پس ہمیں بھی چاہیے کہ ہم بار بار تبلیغ کریں۔آخر ہم اس قلعہ کو توڑ دیں گے پس یہ تینوں گروہ غلطی پر ہیں۔بچے مومن اور مخلص وہ ہیں جن کو خدا نے اس نعمت سے مستفیض کیا۔وہ اوروں کو بھی پہنچا کر اپنا فرض پورا کرتے ہیں۔کسی کے گھر میں آگ لگی ہوئی ہو تو کیا ہمسائے اس کو بجھانے کے لئے پوری کوشش نہیں کرتے۔عقلمند وہ ہے جو اس بے دینی کی آگ کو جو دنیا میں بھڑک رہی ہے بجھانے کے لئے پوری کوشش کرتا ہے۔میں نے سمجھا کہ وہ لوگ کس طرح آرام کر سکتے ہیں۔جو یہ دیکھتے ہیں کہ ان کے بھائیوں کے! ہمسائیوں کے گھر میں آگ لگی ہوئی ہے اور وہ اسے بجھانے نہیں جاتے۔ان کو چاہیے کہ وہ مجنونانہ رنگ اختیار کریں۔کیا کبھی سستی سے بھی اٹھ اٹھ کر آگ بجھا کرتی ہے۔ایمان کی مثال کھیتی کی طرح ہوتی ہے۔اس کو وقت پر کاٹ لینا چاہیے۔ورنہ یہ کھیت تباہ ہو جائے گا۔یعنی جب نبیوں کے قریب کا زمانہ گزر جاتا ہے۔تو وہ سڑ جاتا ہے۔دیکھو اگر بے دینی کی جڑ مضبوط ہو گئی۔تو اس کا کاٹنا مشکل ہو جائے گا۔جس طرح درخت کی جڑ جب مضبوط ہو جاتی ہے۔تو اس کا اکھاڑنا مشکل ہو جاتا ہے۔اسی طرح نیا نیا انکار بھی نرم ہوتا ہے۔اس کا انسداد آسان ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے اپنے فرائض کے ادا کرنے کی توفیق عطا فرمادے اور اس کی مدد اور نصرت ہمیشہ ہمارے ساتھ ہو۔آمین امه سیرت ابن ہشام جزو اول حالات قبول اسلام سیدنا عمر بن الخطاب الفضل ۷ مارچ ۱۹۲۵ء)