خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 33

33 ہے۔وہ اپنے محکموں میں اپنے بے روز گار احمدیوں کے لئے جگہ نکال سکتے ہیں اور وہ متعصب نہیں کہلا سکتے۔کون ہے جو دیانت داری سے کہہ سکتا ہے۔کہ اس کا بیٹا اگر لکھ پڑھ جائے تو وہ ڈپٹی کمشنر یا لاٹ صاحب یا دیگر افسروں کے سامنے اس کی سفارش کو تعصب قرار دے۔تو پھر وہ اپنے ایک احمدی بھائی کی سفارش اور اس کے لئے کام نکالنے میں کیا متعصب کہلا سکتا ہے۔اگر وہ اپنے بھائی یا بیٹے کی سفارش کر کے متعصب نہیں ہوتا بلکہ حقدار کو حق دلواتا ہے تو ایک احمدی کی وہ سفارش کر کے کیوں متعصب کہلا سکتا ہے۔جس کی محبت بھائی کی محبت سے کم نہیں۔یہ فطرتی بات ہے اس کو کوئی مٹا نہیں سکتا۔ہاں یہ میں ناپسند کرتا ہوں کہ کوئی احمدی افسر حقدار کا حق تلف کر کے کسی احمدی کو دلوا دے۔مثلاً ایک ہندو کے مقابلہ میں ایک احمدی جو کام نہیں کر سکتا اگر وہ ایسی حالت میں ہندو کو چھوڑ کر احمدی کو کام پر لگاتا ہے تو وہ تعصب سے کام لیتا ہے۔لیکن اگر قابلیت کے لحاظ سے دونوں مساوی ہیں۔تو پھر اگر وہ احمدی کو ترجیح نہیں دیتا تو وہ احمق ہے۔قوم کا دشمن ہے۔اس کو چاہیے کہ ایسی حالت میں احمدی کو ترجیح دے۔پس مختلف صیغوں کے افسروں اور کارکنوں کو اپنے احمدی بھائیوں کے لئے جگہیں نکالنی چاہیں۔مثلاً تحصیلدار عرائض نویس اور نقل نویس کی جگہ نکال سکتے ہیں۔جس میں شدھ بدھ اردو بھی کام دے جاتی ہے۔ذرا ہوشیاری کی ضرورت ہوتی ہے۔اور پھر وہ خوب کمانے لگ جاتے ہیں۔اسی طرح دفتروں میں ایسی جگہیں خالی ہوتی ہیں کہ ایک بی۔اے دوسری جگہ ستر اسی سے زیادہ نہیں پا سکتا مگر ایک انٹرنس پاس وہاں دو دو سو اور پانچ پانچ سو پا سکتے ہیں۔پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ کوشش کر کے کام نکالیں اور مرکز میں اطلاع دیں تا وہ نہ صرف اپنا بوجھ آپ اٹھا ئیں بلکہ سلسلہ کے لئے بھی وہ مفید ہو سکیں اور وہ اپنی جماعت کے ایسے لوگوں کی مدد کر کے اپنی مدد کریں گے اور ان کی بھی حکومت بڑھے گی۔میں اپنے فرض سے صرف ان باتوں کی طرف جن کا میں نے ذکر کیا ہے توجہ دلا کر سبکدوش نہیں ہو سکتا بلکہ جو لوگ کام کرتے ہیں لیکن پورا نہیں کرتے۔یا وہ زیادہ سے زیادہ محنت کر کے نہیں کرتے۔ان کو بھی توجہ دلاتا ہوں کہ وہ زیادہ محنت سے کام کریں اور جن کو کوئی مفید پیشے معلوم ہوں یا سکھا سکتے ہوں یا وہ ملازم ہوں۔رسوخ رکھتے ہوں تو وہ اس سے اپنے بھائیوں کو فائدہ پہنچائیں تا وہ بھی جماعت کی ترقی اور سلسلہ کی اشاعت کے لئے مفید ہوں۔اللہ تعالٰی ہم کو توفیق دے کہ ہم کمزوروں کی مدد کریں اور دیانت داری اور امانت کے ساتھ کام کر کے بھائیوں کو نفع پہنچائیں اور ہماری محبت آپس میں ایسی ہو جیسے سگے بھائی باہم محبت رکھتے ہیں۔ا بخاری کتاب الادب باب حق الصيف (الفضل ۱۴ فروری ۱۹۲۵ء)