خطبات محمود (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 413

خطبات محمود (جلد 9) — Page 369

369 ثواب ہوتا ہے مگر کیوں ہوتا ہے۔آخر کوئی وجہ تو ہونی چاہئے کیا یہی وجہ نہیں کہ خدا نے ان مقامات کو چن لیا ہے؟ پس جن مقامات کو خدا نے چن لیا۔ان کے ساتھ اس نے خاص برکات کو بھی وابستہ کر دیا ہے اور اگر ایسی برکات جو ان جگہوں پر جمع ہو گئیں۔کسی اور جگہ جمع ہو جائیں۔تو خدا اس کو ہی چن لیتا۔مکہ کی اینٹوں پتھروں میں تو کچھ نہیں۔اصل چیزیں برکات ہی ہیں۔جو اس جگہ جمع ہو گئیں اور خدا نے اس مقام کو چن لیا۔پس ایسے موقعوں پر جا کر عبادت کرنے والا اسی لئے زیادہ ثواب کا مستحق ہوتا ہے اور یہ بھی ایک وجہ ہے ان مقامات کی حفاظت اور احترام کی۔پس جو شخص ان کی حفاظت اور احترام کرتا ہے وہ شرک نہیں کرتا بلکہ توحید قائم کرتا ہے۔ایسا ہی ان مقامات پر عبادتیں کرنا یا دعائیں مانگنا بھی عین توحید ہے۔پس ہم نجدیوں کی غلطیوں پر انہیں زور سے آگاہ کرتے ہیں اور انہیں ان کے ترک کرنے کے لئے کہتے ہیں اور انہیں کے فائدے کے لئے کہتے ہیں اور باوجود اس مخالفت کے جو تمہیں سال سے اہلحدیث ہماری کر رہے ہیں اور باوجود ان تکلیفوں کے جو اب تک وہ ہمیں پہنچا رہے ہیں۔ہم کہتے ہیں کہ ہم جب بھی دیکھیں گے کہ نجدی اپنی غلطیوں کی تلافی کرتے ہیں۔تو شرک کے مٹانے اور توحید کے پھیلانے میں ہم ان کے ساتھ ہوں گے اور ہم ان کی مدد کریں گے۔باقی رہا یہ امر کہ خلافت والوں نے ہماری مدد کی۔ممکن ہے کہ یہ امر درست ہو لیکن اگر کوئی مدد انہوں نے کی ہے تو وہ اکیلے اہل حدیثوں نے نہیں کی۔حنفیوں نے بھی کی ہے۔کیونکہ حنفی بھی خلافت کمیٹیوں میں شامل تھے۔گواب الگ ہو رہے ہیں۔اس لئے خلافت کمیٹی والوں کا یہ کہنا کہ ہم نے تمہاری مدد کی۔اس حد تک درست نہیں جس حد تک درست وہ بتاتے ہیں۔ہم نے ان کی جو مدد دیکھی۔وہ تو یہ تھی کہ جب غیر احمدیوں کا جلسہ قادیان میں ہوا تو بٹالہ سے خلافت کمیٹی کے والنیٹرز آئے۔جنہوں نے گلیوں میں پھر کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق نہایت گندے شعر پڑھے اور گالیاں دیتے رہے اور پھر اسی پر بس نہ کیا بلکہ ہمارے اشتعال دلانے اور ہمیں دکھ پہنچانے کے لئے اور بھی ایسی حرکات کرتے رہے جو کسی مسلمان کہلانے والے کے ہرگز شایان شان نہیں تھیں۔پھر میرے لیکچر میں جو امرت سر میں ہوا جو کچھ ان لوگوں نے کیا وہ ان کو بھولا نہیں ہو گا۔حالانکہ بات کچھ بھی نہیں تھی۔مگر ان لوگوں کے ایک لیڈر نے حوالہ حوالہ " کہہ کر شور مچا دیا۔ان شور مچانے والوں میں سب سے بڑا مولوی عطاء اللہ تھا اور وہاں یہ صاحب بھی تھے جنہوں