خطبات محمود (جلد 9) — Page 361
361 ہے ایسا شخص جو مسلمان کہلاتا ہو اور پھر ہر وہ بات کرنے کے لئے تیار نہ ہو جو آپ کے جسم کی حفاظت کے لئے ضروری ہو۔یا جو بات آپ کے جسم کی حفاظت کے واسطے کی گئی اس کو رد کرنے کی کوشش کرے۔یقینا کوئی ایسا مسلمان نہ ہوگا۔جو آپ کے جسم کی حفاظت نہ کرنا چاہتا ہو۔یا جس طریق سے اس کی حفاظت کی گئی ہو۔اس کو نا پسند کرتا ہو۔اگر مخالفوں کی ان کوششوں اور ان منصوبہ بازیوں پر نظر کی جائے جو رسول کریم ﷺ کی قبر سے آپ کے جسم مبارک کو نکال لینے کے متعلق کی گئیں۔تو آپ کے جسم کی حفاظت کا سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے اور تقاضا کرتا ہے کہ آپ کے جسم کی حفاظت کے لئے ہر ممکن تدبیر اختیار کی جائے۔دشمنوں کی طرف سے اس قسم کی کوششیں ہوتی رہی ہیں کہ سرنگ لگا کر آپ کے جسم کو قبر میں سے نکال لیا جائے اور عجائب گھر میں رکھا جائے۔ایسا ہی اور بیسیوں قسم کے منصوبے دشمنوں کی طرف سے ہوتے رہتے ہیں۔ایسی حالت میں آپ کی قبر کی حفاظت کرنا اور اس پر گنبد بنا کر اسے محفوظ کر دینا شرک نہیں ہو گا بلکہ عین اسلام ہو گا۔مسلمان آنحضرت ا سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں مگر کیا محبت کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ جس کے ساتھ محبت کی جائے اس کے مرنے کے بعد اس سے محبت کرنا چھوڑ دیا جائے۔خالص محبت کے تو یہ معنی ہیں کہ جس طرح زندگی میں اس کے ساتھ محبت کی جائے۔اسی طرح مرنے کے بعد بھی اس کے ساتھ محبت کی جائے یہ نہیں کہ جب تک وہ زندہ رہا۔محبت کرتے رہے اور جب وہ مر گیا تو محبت بھی مر گئی۔پھر یہاں تو معاملہ ہی اور ہے۔یہاں نہ صرف رسول کریم ﷺ کی محبت کا سوال ہے بلکہ آپ کے احسانات کا بارگراں بھی ہمارے سروں پر ہے۔اس صورت میں کیا یہ ضروری نہیں کہ ہم آپ کے بعد آپ کے جسم مبارک کی کما حقہ حفاظت کریں۔آپ کی تو یہ شان ہے کہ خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے۔ان کنم تحبون اللہ فاتبعونی یحببكم الله ( آل عمران (۳۲) یعنی اگر تم یہ چاہتے ہو کہ خدا سے محبت کرو تو اس کا یہ طریق ہے کہ اس کے رسول سے محبت کرو۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تمہارے ساتھ محبت کرے گا۔پس آپ سے دراصل محبت کرنے والا وہی شخص ہو گا۔جو خدا کے بعد ہر ایک چیز سے بڑھ کر آپ سے محبت کرنے والا ہو۔اگر ہم یہ دعوئی کرتے ہیں کہ ہم آنحضرت ﷺ سے محبت کرتے ہیں۔تو ہمیں یہ بات ثابت کر دینی چاہئے کہ ا خدا تعالیٰ کے سوائے ہمارے دلوں میں اور کسی چیز کی محبت آنحضرت ا سے بڑھ کر نہیں۔کیا حدیثوں میں نہیں آیا کہ حضرت عمر نے ایک دفعہ آنحضرت ﷺ کی خدمت وضي ،